پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پنجاب کے ضمنی انتخابات’ کیا ماضی کی طرح مذہبی جماعتوں کی وجہ سے اس بار بھی نتائج پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آگئی

یہ ایک بہت بڑا سرپرائز ہو گا اگر مذہبی جماعتیں کسی حلقے میں دس ہزار کے قریب ووٹ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں

پنجاب کے ضمنی انتخابات’ کیا ماضی کی طرح مذہبی جماعتوں کی وجہ سے اس بار بھی نتائج پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے؟ چونکا دینے والی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی سیاست کا گہرا مشاہدہ رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ضمنی انتخابات میں نئی اور روایتی مذہبی جماعتیں زیادہ اثرانداز نہیں ہو پائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سرپرائز ہو گا اگر مذہبی جماعتیں کسی حلقے میں دس ہزار کے قریب ووٹ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ضمنی انتخابات کے محرکات مختلف ہوتے ہیں۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی نے تقریبا تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے ضرور کیے ہیں تاہم ضمنی انتخابات کو وہ اپنی آئندہ عام انتخابات کی تیاری کے لیے استعمال کریں گے تاہم صحافی اور تجزیہ کار سبوخ سید سمجھتے ہیں کہ مذہبی جماعتیں مختلف حلقوں میں بڑی سیاسی جماعتوں کی ہار یا جیت میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ان کے خیال میں خاص طور پر فرقے کی بنیاد پر قائم مذہبی جماعتوں کا کردار زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں خصوصا ٹی ایل پی اور کالعدم جماعت الدعو کے حمایت یافتہ سیاسی گروپوں کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ انھیں پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی اور انھوں نے خصوصا پنجاب میں نون لیگ کے ووٹ بینک کو متاثر کیا۔

عامر رانا کے خیال میں اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اس مرتبہ اگر مذہبی جماعتوں کے امیدوار کسی حلقے میں زیادہ ووٹ لیں گے تو اس سے دونوں جماعتوں یعنی نون لیگ اور پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر ایک جیسا اثر پڑے گا۔میرا نہیں خیال اسٹیبلشمنٹ چاہے گی کہ نون لیگ کے ووٹ بینک کو متاثر کیا جائے تاہم سبوخ سید کہتے ہیں خاص طور پر ٹی ایل پی گذشتہ چند برسوں سے مسلسل انتخابی سیاست کا حصہ بنتی آئی ہے اور اس مرتبہ بھی انھوں نے ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس طرح وہ خود پر سے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کا ٹیگ ہٹانا چاہتے ہیں۔ سبوخ سید کے خیال میں ٹی ایل پی دوسری جماعتوں اور لوگوں کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ اس کا اپنا انفرادی ووٹ بینک ہے۔

سبوخ سید کے خیال میں آنے والے ضمنی انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہو جائے گا۔ اس کی جھلک مختلف مذہبی جماعتوں کی طرف سے پی ٹی آئی اور نون لیگ کے امیدواروں کی حمایت کے اعلانات میں نظر آتی ہے۔ سبوخ سید کے خیال میں اس کا فائدہ ٹی ایل پی کو زیادہ ہو گا۔ سبوخ سید کا کہنا تھا کہ جب ان کی اپنی جماعت کا امیدوار میدان میں نہ ہو تو مذہبی جماعتوں کا ووٹ فرقے کی بنیاد پر یکجا ہو جاتا ہے۔ بریلوی عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ تر ٹی ایل پی ہی کو ووٹ دیں گے اور اگر ٹی ایل پی زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ آئندہ عام انتخابات میں معاملات طے کرنے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کر لیں گے۔ سبوخ سید کا کہنا تھا کہ یوں ٹی ایل پی چند حلقوں میں کسی حد تک انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے تاہم مجموعی طور پر وہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کریں گے۔

عامر رانا سمجھتے ہیں کہ کراچی اور پنجاب کی سیاست میں خاصہ فرق ہے۔ پنجاب میں ووٹر کو کیسے باہر نکالنا ہے اور اس سے ووٹ لینا ہے، یہ کراچی سے بالکل مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں خصوصا جنوبی پنجاب میں زیادہ تر ووٹ برادری یا خاندانی اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے جبکہ کراچی میں ایسا نہیں۔ اس لیے ان دونوں کا موازنہ کرنا درست نہیں ہو گا۔ سبوخ سید کے خیال میں مذہبی جماعتوں میں اس وقت ٹی ایل پی کراچی میں خاص طور پر بہت اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ کراچی میں مذہبی جماعتوں کی سیاسی حمایت کی ایک تاریخ رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے کراچی میں حکومت بھی کی اور کچھ مذہبی جماعتیں ایسی ہیں جو صرف کراچی میں حمایت رکھنے کی وجہ سے قومی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔

سبوخ سید بھی سمجھتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کو ملنے والی حمایت کا کراچی اور پنجاب کے ساتھ موازنہ منصفانہ نہیں۔ سبوخ سید کے خیال میں جماعتِ اسلامی نے جن چند حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے ہیں، وہاں بھی انھیں خاطر خواہ کامیابی ملنے کے امکانات کم ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے اندر جو کارکن ہیں، وہ خود بھی کچھ زیادہ پرامید نہیں۔ جماعتِ اسلامی کا ووٹر اب زیادہ حقیقت پسندانہ سوچ رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ تر نون لیگ یا پی ٹی آئی کو ووٹ دیتا ہے۔ سبوخ سید کے مطابق پی ٹی آئی اور نون لیگ میں نئی قیادت کے کئی چہرے سابقہ جماعتِ اسلامی کے ہی ہیں۔

عامر رانا کے مطابق جماعت اسلامی خصوصا حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج پر کسی بھی طرح اثرانداز ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی گذشتہ عام انتخابات کے بعد خود کو یکجا نہیں کر پائی۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ نوے کی دہائی کا دور نہیں، جب ان کا اپنا ایک ووٹ بینک ہوا کرتا تھا۔ ان کے اس ووٹ بینک میں اضافہ نہیں ہو پایا۔ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں مذہبی جماعتیں ضمنی انتخابات کو زیادہ حد تک تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں تاہم ضمنی انتخابات میں ان کی کارکردگی سے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے ان کے ممکنہ کردار کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.