پاکستان

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے پاس عوام کے کتنے ارب روپے پڑے ہیں؟ حیران کن انکشاف

عوام کے 150 ارب روپے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے پاس پڑے ہیںیہ پیسے صارفین سے ناجائز طریقے سے وصول کیا گیا

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے پاس عوام کے کتنے ارب روپے پڑے ہوئے ہیں اس حوالے سے حیران کن انکشافات منظر عام پر آگئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی)میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عوام کے 150 ارب روپے گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے پاس پڑے ہیں۔ پی اے سی نے کار ساز کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے ناجائز پیسا وصول کرنے اور تاخیر سے ڈلیوری کا نوٹس لے لیا، تمام کار ساز کمپنیوں سے بینک اکاؤنٹس اور ایڈوانس لی گئی رقوم کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ملک میں کار سازکمپنیوں کی اجارہ داری اور صارفین سے اضافی رقوم لے کر انہیں تاخیر سے گاڑیاں دینے کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ پاکستان میں کار سازی کی صنعت کو 40 سال ہوگئے ہیں لیکن بابا آدم کے زمانیکی گاڑیاں بنائی جا رہی ہیں، ائیر بیگ تک نصب نہیں، سوا کروڑ کی گاڑی لی لیکن سیٹ پر بیٹھا تو کمر درد شروع ہوگیا، ٹریکٹر بھی سنسکرت کے زمانے کے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر صرف بمپر ہی بنانے ہیں تو درآمد پر پابندی ہٹا دی جائے، کمپنیاں ملی بھگت سے اربوں کما رہی ہیں، حکومت خاموش تماشائی ہے۔

آڈیٹرجنرل نے پی اے سی کو بتایا کہ کار مینوفیکچرز کے پاس پاکستانی عوام کے ڈیڑھ ارب روپے پڑے ہیں، تین بڑی کمپنیوں سے فنانشل اسٹیٹمنٹ مانگی لیکن فراہم نہیں کی گئی۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار گاڑیوں پر اون منی روکنے میں ناکام ہے۔ پی اے سی نے تمام کار ساز کمپنیوں سے بینک اکاؤنٹس، ایڈانس لی گئی رقم اور کارخانوں کی پیداواری صلاحیت کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.