پاکستانفیچرڈ پوسٹ

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا کیس، فل کورٹ بنانے کا مطالبہ، چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے ایسے ریمارکس دیئے کہ سیاستدانوں کی بولتی بند ہو گئی

فل کورٹ بنانے کیلئے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، فل کورٹ بہت سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات میں بنایا جاتا ہے، یہ معاملہ پیچیدہ نہیں ہے

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا کیس، فل کورٹ بنانے کا مطالبہ، چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے ایسے ریمارکس دیئے کہ سیاستدانوں کی بولتی بند ہو گئی ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ فل کورٹ بنانے کے معاملے پر آج فیصلہ ہوگا یا نہیں،کچھ نہیں کہہ سکتا،فل کورٹ بنانے کے لیے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دلائل سن کر فیصلہ کریں گے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں، فل کورٹ بنانے کے معاملے پر آج فیصلہ ہوگا یا نہیں،کچھ نہیں کہہ سکتا، فل کورٹ بنانے کے لیے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، فل کورٹ بہت سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات میں بنایا جاتا ہے، یہ معاملہ پیچیدہ نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔ وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے چوہدری شجاعت حسین اور پیپلز پارٹی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست منظور کرلی ۔ اس سے قبل آج سماعت کے آغاز پر سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور مقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں تمام بار کونسلز کی جانب سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لطیف آفریدی نے کہا کہ کرائسس بہت زیادہ ہیں، سسٹم کو خطرہ ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست مقرر کی جائے اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.