پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف کیس میں فل کورٹ بنانے کی سماعت ، سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ کیا سنایا؟ ملک بھر میں تھرتھرلی مچا دینے والی خبر آگئی

ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میرٹ پر کل صبح 11.30 بجے سنیں گے، فل کورٹ نہ بنانے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کریں گے، یہ ہی بینچ کیس کی سماعت کریگا

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف کیس میں فل کورٹ بنانے کی سماعت ، سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ کیا سنایا؟ ملک بھر میں تھرتھرلی مچا دینے والی خبر آگئی ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، فل کورٹ پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سماعت میں وقفہ کیا گیا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کئی گھنٹے تک عدالت نے سماعت کی، میرٹس پر دلائل سنے، معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، فل کورٹ بنانیکی استدعا مسترد کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میرٹ پر کل صبح 11:30 بجے سنیں گے، فل کورٹ نہ بنانے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کریں گے، یہ ہی بینچ کیس کی سماعت کریگا۔ اس سے قبل آج سماعت کے آغاز پر سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی روسٹرم پر آگئے اور مقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں تمام بار کونسلز کی جانب سے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

لطیف آفریدی نے کہا کہ کرائسس بہت زیادہ ہیں، سسٹم کو خطرہ ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست مقرر کی جائے اور آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے فل کورٹ بنایا جائے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ سب کا بہت احترام ہے، آپ کے مشکور ہیں کہ معاملہ ہمارے سامنے رکھا، آفریدی صاحب، یہ کیس ہماری آرٹیکل 63 اے کی رائے کی بنیاد پر ہے، ہم فریقین کو سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 10 سابق صدور کے کہنے پر فیصلہ نہیں کر سکتے، دوسری طرف کو سننا بھی ضروری ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیکر تمام مقدمات کو یکجا کر کے سنا جائے۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ کیس میں فریق بننے کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ذرا ابتدائی کیس کو سننے دیں، باقی معاملات بعد میں دیکھیں گے، آپ کو بھی سنیں گے لیکن ترتیب سے چلنا ہو گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھیں، امید ہے آپ کی نشست ابھی بھی خالی ہو گی، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیٹ تو آنی جانی چیز ہے، سیٹ کا کیا مسئلہ ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے کہا کہ عدلیہ پر دبا ڈالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، مناسب ہو گا آرٹیکل 63 اے کی تشریح پر نظرثانی درخواست پہلے سن لی جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اتنی کیا جلدی ہے بھون صاحب پہلے کیس تو سن لیں۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میں بھی بار کا سابق صدر ہوں، بار صدور کا ان معاملات سے تعلق نہیں ہونا چاہیے، پہلے وہ جوابات سن لیں جو عدالت نے مانگے تھے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل کہاں ہیں؟ جس پر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفاق قادر عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے بھی معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کر دی۔ عرفان قادر نے کہا کہ اہم آئینی معاملہ ہے، تمام ابہامات دور کرنے کے لیے فل کورٹ بنانے کا یہ صحیح وقت ہے، پہلے فیصلہ دینے والے ججز ہی کیس سن رہے ہیں جس کی وجہ سے اضطراب پایا جاتا ہے، درست فیصلے پر پہنچنے کے لیے عدالت کی معاونت کروں گا۔ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر نے عدالت کا 23 جولائی کا فیصلہ بھی پڑھ کر سنا دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 63 اے کا یہ تاثر کیسے ملا کہ پارلیمانی پارٹی یا ہیڈ کی بات ہوئی، جس پر عرفاق قادر نے کہا کہ یہ سوال تو آپ کا ہے جس پر یہ خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا ہے، قانونی سوال یہ ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا مقف الگ ہو اور پارٹی ہیڈ کا مختلف تو پھر کیا ہو گا؟ عرفان قادر نے کہا کہ واضح ہونا چاہیے کہ جس قانونی سوال پر سماعت ہو رہی ہے وہ کیا ہے، جس سوال پر سماعت ہو رہی وہ بتانا میرا کام نہیں، عدالت تعین کرے لیکن معاملہ شاید پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات کا ہے۔ چیف جسٹس نے عرفان قادر کو آئین کی کتاب سے آرٹیکل 63 اے پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی دونوں کا آرٹیکل 63 اے میں ذکر موجود ہے۔ وکیل عرفان قادر نے کہا کہ میں بہت زیادہ کنفیوژن کا شکار ہوں کہ یہ سوال کیا ہے، بالکل سمجھ نہیں آرہی کہ کیا سوال ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ عدالت کو سن تو لیں، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ ہم آرام سے اس معاملے کو سمجھ سکتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ پہلے سنیں تو ہم کیا کہہ رہے ہیں جبکہ چیف جسٹس نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے آپ کو سننے میں مشکل پیش آ رہی ہے، اگلی بار عدالت کی بات کاٹی تو آپ واپس اپنی کرسی پر ہوں گے۔ عرفان قادر نے کہا کہ آپ جتنا بھی ڈانٹ لیں میں برا نہیں مناں گا، آئین کا آرٹیکل 14 شخصی وقار اور جج کے وقار کی بات کرتا ہے، جج کو حق ہے کہ وہ وکیلوں کو ڈانٹے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ سے احترام سے بات کر رہے ہیں، آپ آرٹیکل 63 اے کو ہمارے ساتھ پڑھیں، ہم کسی کو ڈانٹ نہیں رہے، محترم کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ آپ محترم کہیں گے تو میں اس سے بھی زیادہ محترم کہوں گا، عدالت جو بھی سوال کرے گی جواب دوں گا، آپ ناراض ہو گئے تھے، میں عدالت کو ناراض کرنے نہیں آیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ناراض نہیں ہیں،آپ دلائل دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ڈکلیریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایت ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟ عدالتی فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ آئین میں سیاسی جماعت کے حقوق ہیں، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ڈائریکشن دیتا ہے، ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر رولنگ دی، جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں، جس پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کے وکیل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ مسترد ہو جائے گا، یہی نقطہ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی ہدایت اور ڈکلیریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے؟ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں درج ہے کہ پارٹی سربراہ کا کردار پارٹی کو ڈائریکشن دینا ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل سے کہا کہ سوال کا براہ راست جواب دیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ چودہویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی گئی، ترمیم شدہ آرٹیکل 63 اے پڑھیں، آرٹیکل 63 اے کے اصل ورژن میں دو تین زاویے ہیں۔ وکیل حمزہ شہباز منصور اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں پارٹی سربراہ کا ذکر موجود ہے، جسٹس عظمت سعید کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلے کرتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، چودہویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کون سے حصے پر انحصار کیا؟ جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے پر فیصلے کے پیرا تھری پر انحصار کیا۔

وکیل منصور اعوان نے بتایا کہ جسٹس عظمت سعید کا بینچ 8 رکنی تھا جس نے پارٹی سربراہ کے اختیارات کا فیصلہ دیا، جس پر جسٹس منیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ من وعن میرے ذاتی خیال میں ہم پر بائنڈنگ نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی بھی پارٹی سربراہ کی ہی ہدایات پر چلتی ہے؟ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے، اگر5 رکنی بینچ کو لگتا ہے ماضی کا عدالتی فیصلہ غلط تھا تو فل بینچ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی فیصلہ خلاف آئین قرار دینے کے نکتے پر رولز موجود ہیں جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا نکتہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے کے مختصر حکمنامے نے ابہامات کو جنم دیا، آرٹیکل 63 اے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں میں صرف ووٹ مسترد ہونے کا نکتہ ہے۔ جسٹس عمر بندیال نے مزید کہا کہ پارلیمانی پارٹی ہدایت کیسے دے گی یہ الگ سوال ہے، ہدایت دینے کا طریقہ پارٹی میٹنگ ہو سکتی ہے یا پھر بذریعہ خط۔ منصور عثمان اعوان نے کہا کہ میرے پاس 4 سیاسی جماعتوں کی مثالیں موجود ہیں جن کے ہیڈ اسمبلی کا حصہ نہیں، پارلیمانی پارٹی اپنی پارٹی کے سربراہ سے ہی منسلک ہوتی ہے، رولنگ دینے کی وجوہات بتانا چاہتا ہوں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کو ووٹ کا اختیار دینے کی بھی وجہ ہو گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی کا اختیار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، آرٹیکل 63 اے کہتا ہے جو رکن پارلیمانی پارٹی کی ہدایات نہ مانے اس کے خلاف ڈکلیریشن دی جاتی ہے، میرے دماغ میں کوئی ابہام نہیں کہ کس نے ڈکلیریشن دینی ہے، کس نے ڈائریکشن دینی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعت خود وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہوتی ہے، پارٹی سربراہ کا کردار بہت اہم ہے، منحرف رکن کے خلاف پارٹی سربراہ ہی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، ووٹ کس کو ڈالنا ہے ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی اور ریفرنس سربراہ بھیجے گا۔ منصور عثمان اعوان نے کہا کہ جے یو آئی ف پارٹی سربراہ کے نام پر ہے، مولانا فضل الرحمان پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، عوام میں جوابدہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت میں واضح ہو گیا تھا کہ پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ ختم ہونا ضروری ہے، ایک سینئر پارلیمانی لیڈر نے صدارتی ریفرنس کے دوران پارٹیوں میں آمریت کی شکایت کی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے ارکان کو سننا ہو گا، بیرون ملک بیٹھے سیاسی لیڈر پارلیمانی ارکان کو ہدایات دیا کرتے تھے، آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیا گیا، پارلیمانی پارٹی کی بھی اپنی منشا ہوتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے ہی فیصلے پر انحصار کر کے ووٹ مسترد کیے، آپ اگر ڈپٹی اسپیکر رولنگ کا دفاع کر رہے ہیں تو آپ نے آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ تسلیم کر لیا، ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے کے فیصلے کو قبول کرکے ہی اس پر انحصار کیا، بس اب یہ تعین ہونا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو صحیح سے سمجھا یا نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی معاملات میں پارلیمانی پارٹی کا بااختیار ہونا ضروری ہے، پارٹی سربراہ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ ق لیگ ارکان نے کس کی ہدایات کے خلاف ووٹ دیا تھا؟ عوام جسے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجتی ہے ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ روسٹرم پر آئے تو عدالت نے انہیں بیٹھنے کی ہدایت کر دی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اہم ہدایات ملی ہیں ان سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہدایات سے آگاہ اپنے وکیل کو کریں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برطانیہ میں تمام اختیارات پارلیمانی پارٹی کے ہوتے ہیں، برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا، آئین واضح ہے کہ ارکان کو ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ کا مقف ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی تشریح درست ہے؟ اگر عدالتی فیصلہ غلط ہے تو ووٹ مسترد بھی نہیں ہو سکتے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ دوبارہ روسٹرم پر آئے اور دلائل میں کہا کہ منصور اعوان نوجوان وکیل ہیں، ان کے کندھوں پر بہت بوجھ ہے، تمام پارٹی اراکین کو چوہدری شجاعت کا خط اجلاس سے پہلے مل گیا تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ منصور اعوان بہت بہترین دلائل دے رہے ہیں۔ جسٹس منیب نے منصور اعوان کو وزیر قانون سے ہدایات لینے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ وزیراعلی پنجاب کے وکیل ہیں، وفاقی وزیر قانون سے کیسے ہدایات لے سکتے ہیں؟

چیف جسٹس نے منصور عثمان اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوالات سے پریشان نہ ہوں، اپنے دلائل جاری رکھیں۔ وکیل منصور اعوان نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کے پہلے انتخاب میں پی ٹی آئی کو ہدایات عمران خان نے دی تھیں، الیکشن کمیشن نے عمران خان کی ہدایات پر ارکان کو منحرف قرار دیا، منصور اعوان نے عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت بھی عدالت میں پیش کر دیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کا کیس مختلف تھا، یہاں تمام 10 ممبران نے ایک ہی امیدوار کو ووٹ دیا، ق لیگ کیکسی رکن نے شکایت نہیں کی کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کچھ اور ہدایات دی گئیں، الیکشن کمیشن میں ارکان کا موقف تھا کہ انہیں پارٹی ہدایت نہیں ملیں جبکہ موجودہ کیس میں ارکان کہتے ہیں، پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین نے کہا کہ یہی چاہتا ہوں ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیا جائے جبکہ پرویز الہی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آئے اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھ کر سنائی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ خیال کیا جائے کہ ڈپٹی اسپیکرنے غلطی کی تو صحیح کیا ہو گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے مختصر رولنگ میں الیکشن کمیشن کے فیصلہ کا حوالہ نہیں دیا، ڈپٹی اسپیکرنے رولنگ سے متعلق تفصیلی وجوہات میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے پر بھی انحصار کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر کو عدالتی نظائر دینے سے روک دیا اور کہا کہ آپ کو کیس کے میرٹس پر نہیں سن رہے، یہ بتائیں کہ فل کورٹ بنانا چاہیے یا نہیں؟

پرویز الٰہی کے وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ کو پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلیریشن دینی ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے پر عدالت پہلے ہی مفصل سماعتوں کے بعد رائے دے چکی ہے، عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، فل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟ گزشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف 3 یا 4 کیسز میں بنا ہے، گزشتہ برسوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نے روٹین بینچز میں مسلسل شنوائی سے زیر التوا کیسز کا بوجھ کم کیا ہے۔ عدالت نے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں وقفے کے بعد ساڑھے 5 بجے سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے چوہدری شجاعت حسین اور پیپلز پارٹی کی فریق بننیکی درخواست منظور کرلی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت کے وکیل صلاح الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے وکیل میرٹ پر دلائل دیں، دلائل سن کر فیصلہ کریں گے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں، فل کورٹ بنانے کے معاملے پر آج فیصلہ ہوگا یا نہیں،کچھ نہیں کہہ سکتا، فل کورٹ بنانے کے لیے مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میرٹ پر دلائل کون دے گا؟ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ کل بار کونسل کی آرٹیکل 63 اے پر نظر ثانی اپیل سن لیں۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید دلائل سننے ہیں، مزید وضاحت چاہتے ہیں کہ کیوں لارجربینچ یا فل کورٹ بنایا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ فل کورٹ پر ہی بات کرنے کی استدعا کرنے کی ہدایت ملی تھی، اپنے مکل سے ہدایات لینے کیلئے وقت دیا جائے۔ اس دوران حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے میرٹ پر دلائل کے لیے ہدایات لینے کا وقت مانگ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ آپ شاید چاہتے ہیں آپ کے کہنے پر فل کورٹ بنادیں تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں، میرٹ پر دلائل سن کر فیصلہ کرینگے کہ فل کورٹ بنانا ہے یا نہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس بات پر وضاحت پہلے سے ہے کہ فل کورٹ بننا چاہیے، اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ فوری شاپنگ کرنا چاہتے ہیں، اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ فوری شاپنگ نہیں،ہمیں کسی پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ این آر او کیس فل کورٹ نے سنا تھا کیونکہ وہ آئینی مسئلہ تھا، اگر نظرثانی اپیل سن کر منظور ہوگئی تو رن آف الیکشن کی ضرورت ہی نہیں رہیگی۔

چیف جسٹس نے وکیل عرفان قادر سے مکالمے میں کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو 5 ججوں کے ساتھ گھر بھی بھیجا ہے، تب آپ نے مٹھائیاں بانٹیں اور آج آپ دوسری طرف جاکر کھڑے ہوگئے ہیں، اگر یہ معاملہ حد سے تجاوز ہوا تو فل کورٹ بنادیں گے۔ عرفان قادر نے کہا کہ جب باربار ایک ہی جج بینچ میں آتے ہیں تو اس الزام کو فل کورٹ کے ذریعے مسترد کیا جاسکتا ہے، یہ بات سوشل میڈیا اور زبان زد عام ہے، جسٹس اعجاز الاحسن کی مجھ سے ناراضگی اس دن اور آج بھی محسوس ہوئی،کاش نہ ہوتی،موجودہ بینچ کی نیوٹرلٹی پرکوئی ابہام نہیں پر الزامات کو رد کرنے کے لیے فل کورٹ ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے عرفان قادر سیکہا کہ فل کورٹ بہت سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات میں بنایا جاتا ہے، یہ معاملہ پیچیدہ نہیں ہے، اگر آپ فل کورٹ کیلئے دلائل پرتیاری کرکے آئے ہیں تو ٹھیک ورنہ منصور اعوان کو سن لیتے ہیں،ہمارے ملک میں گورننس کا بہت بڑا مسئلہ ہے، ہم نے وفاق کے معاملے پر ازخود نوٹس لے کر دن اور شام میں سن کر فیصلہ کیا، وفاق کے معاملے پر ہماری رائے تھی کہ ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی، موجودہ کیس میں ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا، اس کیس کو لمبا نہیں لیکن چھوٹا کیا جا سکتا ہے۔ عرفان قادر نے کہا کہ میں نے کبھی اتنے لمبے دلائل نہیں دیے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس میں ایک ہی سوال ہے کہ پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے یا نہیں؟ آپ اس سوال کا جواب دے چکے ہیں کہ پارٹی سربراہ ہدایات دے سکتا ہے۔

عرفان قادر نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی وزیراعلی کا دوبارہ الیکشن ہوا، اگرمنحرف ارکان کے ووٹ مسترد کرنیکا فیصلہ بدل گیا تو دوبارہ پولنگ کی ضرورت نہیں ہوگی، کیس کی بنیاد ہی عدالتی فیصلہ ہے جس کی نظرثانی پر پہلے فیصلہ ضروری ہے، عدالت کی بات درست تھی کہ سیاسی لوگ آپس میں فیصلے کریں تو ملک کے حالات مختلف ہوسکتے ہیں، اگرعدلیہ متفق ہوجائے تو بھی کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں،سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے کے فیصلے میں تضاد ہے، ایسا لگتا ہیکہ عدالت دبا میں ہے، یہ نہ سمجھییگا کہ میں سپریم کورٹ کی بے توقیری کر رہا ہوں، میرے لیے بھی یہ عدالت اتنی ہی محترم ہے جتنی آپ کے لیے، آپ سیاستدانوں کیبارے میں کہتے ہیں کہ ان میں اختلاف سے ملک میں ہنگامہ ہو رہا ہے، اگر ججز خود بھی یکجا ہوکر فل کورٹ بنالیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ دوسری پارٹی جس کو وزیراعلی لانا چاہتی ہے وہ اس کو ڈاکو کہتے تھے،چوہدری شجاعت حسین پاکستان کے بڑے سیاستدان ہیں، وہ اپنا مقف عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں،کسی نے انحراف کیا ہے تو فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، خدارا اس کیس میں جلدی نہ کریں، عدالتی فیصلہ جانبدار نہ بھی ہو تو جانبداری سے پاک نہیں قرار پائیگا۔ عرفان قادر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ درخواست ہے کہ کل صبح فریش مائنڈ کے ساتھ یہ کیس سن لیں،کل پر امن ماحول میں سماعت ہوپائیگی۔ چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ کیا ابھی ماحول چارجڈ ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نیکہا کہ ہم پرسکون بیٹھے ہیں آپ دلائل دیں۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ خود ججز تقرری کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں، ہمارے 54 ہزار کیسز زیر التوا تھے اب 51 ہزار ہیں، ہم نے کیسز کا بوجھ 40 ہزار سے کم کرنا ہے، کیسز کے بوجھ میں کمی ڈسپلن کی وجہ سے آئی ہے، آج سوشل میڈیا حقائق کے بجائے تاثرکو دیکھتا ہے مگر ہمیں اس کی پرواہ نہیں، ہم ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں، موجودہ کیس میں سوال یہ ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں تھیں،پارٹی سربراہ کی تھی، یہ کوئی بہت مشکل کیس نہیں ہے، ہمیں صرف مزید ٹھوس آئینی دلیل چاہیے کہ پارٹی سربراہ کی ہدایات پرعمل کرنا ہوتا ہے، آپ نے اپنے دورمیں اٹھارویں ترمیم کرکے پارلیمانی پارٹی کو اختیار دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمان کے مسئلے عدالت میں نہیں آنے چاہئیں،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ غیرقانونی اقدام کرے گی تو عدالت مداخلت کرے گی، آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 69 پڑھیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ فاروق نائیک صاحب، ہم اسی سوال پر فیصلہ دینا چاہتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے، فیصلہ کرنے کا گولڈن رول یہ ہی ہے کہ جو سوال سامنے ہو اسی کو طے کیا جائے، سوال بس اتنا ہے کہ اگر ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو غلط سمجھا تو ہم اس کو درست کریں، کیا عدم اعتماد بھی پارلیمان کا اندرونی معاملہ نہیں تھا؟ اس وقت تو آپ کہتے تھے عدالت کا مکمل اختیار ہے، آج آپ دوسری جانب کھڑے ہیں تو کہتے ہیں عدالت کا اختیار نہیں۔

فاروق ایچ نائیک کے بعد چوہدری شجاعت کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین احمد نے فریق بننے کی درخواست پر دلائل کا آغاز کردیا۔ بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ عدالت کو خط بھی پیش کریں گے جو ارکان کو لکھے گئے، فریق بننے کی درخواست چوہدری شجاعت اور ق لیگ کی بطور پارٹی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کیس کے حقائق پر جارہے ہیں عدالت نے قانونی ن کا تعین کرنا ہے، بیرسٹر صلاح الدین نیکہا کہ خط کب لکھے گئے کب ملے عدالت نے پہلی سماعت پریہ سوال پوچھے تھے، اس پر جسٹس اعجازالاحسن نیکہا کہ عدالت نے صرف سمجھنے کیلئے سوال پوچھا تھا، اسپیکرنے فیصلہ خط ملنے کے وقت پر نہیں عدالتی حکم کی روشنی میں دیا۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہے، پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہیے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں۔ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پارٹی ہیڈ کوئی اورہے اور اراکین کہتے ہیں کہ ہمارا قائد کوئی اورہے تویہ فیصلہ سربراہ کے بغیرنہیں ہوسکتا، اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو، کسی جماعت کا ایک سینیٹر ہو تو وہ کس پارلیمانی پارٹی سے ہدایت لیگا؟ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ کیا فل کورٹ فل کورٹ؟ 8 ججز بھی بیٹھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں تو 9 ججزبھی سماعت کرسکتے ہیں، آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا یہ دیکھیں، بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ توقع نہیں تھی کہ اسمبلی بحال ہونے کے بعد نئی اپوزیشن واک آٹ کردیگی، عدالت نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا تھا، اپریل سے ہرگزرتے دن کے ساتھ بحران بڑھتا ہی جارہا ہے، فل کورٹ ستمبرمیں ہی بن سکے گا،کیا تب تک سب کام روک دیں؟ ریاست کے اہم ترین معاملات اس لیے لٹکا نہیں سکتے کہ آپ کی خواہش ہے، آئینی اورعوامی مفاد کے مقدمات کو لٹکانا نہیں چاہیے، آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور 179 لینے والا وزیراعلی ہے، حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہے، ریاست کے کام چلتے رہنے چاہئیں، ہمیں یہ ڈھونڈ کردے دیں کہ کہاں لکھا ہے پارٹی سربراہ غیرمنتخب بھی ہوتواس کی بات ماننا ہوتی ہے؟

بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ فاضل بینچ رات کے 7 بجے بھی موجود ہے تو باقی ججزبھی خوشی سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، اس پر چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ججز دستیاب نہیں ہیں، ہم تین ججز کے علاوہ صرف 2 مزید ججز شہر میں ہیں۔ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ججزشریک ہوسکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ویڈیو لنک شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے ہے،وزیراعلی کے انتخاب کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے۔ بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ق لیگ کے ارکان کو ٹکٹ چوہدری شجاعت نے ہی جاری کیے تھے، عدالت نے اسپیکرکے ووٹ مسترد کرنے کے اختیار پر واضح فیصلہ دے رکھا ہے، اگرجلسے میں اراکین کو کہا جائیکہ فلاں کوسپورٹ کرنا ہے تو کیا یہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تصور ہوگا؟ حمزہ شہباز وزیر اعلی بنیں یا پرویز الہی اس سے آسمان نہیں گرے گا لیکن عوام میں اگر یہ پیغام گیا کہ اہم سیاسی معاملات چند جج فیصلہ کرتے ہیں تو مائی لارڈ پھر کوئی شک نہیں آسمان گر جائیگا۔ چوہدری شجاعت کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین کے دلائل مکمل ہوگئے جس کے بعد عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔ وقفے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی۔ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میرٹ پر کل صبح 11:30 بجے سنیں گے، فل کورٹ نہ بنانے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کریں گے، یہ ہی بینچ کیس کی سماعت کریگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.