پاکستانفیچرڈ پوسٹ

بے نامی اکائونٹس اور انہیں استعمال کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کی قسمت کا فیصلہ کیا ہوگا؟ دبنگ کر دینے والی رپورٹ سامنے آگئی

بے نامی اکائونٹس استعمال کرنے والے پی ٹی آئی رہنمائوں بھی نا اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ پارٹی نے تمام اکائونٹس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے

بے نامی اکائونٹس اور انہیں استعمال کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کی قسمت کا فیصلہ کیا ہوگا؟ دبنگ کر دینے والی رپورٹ سامنے آگئی ۔

تفصیلات کے مطابق 13 غیر اعلانیہ اکاؤنٹس میں دو اکاؤنٹس عمران خان کی درخواست پر کھولے گئے جب کہ باقی 11 اکاؤنٹس دیگر پارٹی رہنماؤں نے کھولے لیکن پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گئے اپنے بیان میں ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ نتیجتاً، الیکشن کمیشن نے انہیں جعلی / بے نامی / نامعلوم اکاؤنٹس قرار دیا اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان اکاؤنٹس میں سے رقم پی ٹی آئی کے اعلانیہ اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔

فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں لکھا ہے کہ چونکہ پی ٹی آئی نے اب ان اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے لہٰذا یہ تمام اکاؤنٹس غیر قانونی اور جعلی اکاؤنٹس (بے نامی)کی کیٹیگری میں شمار ہوتے ہیں۔ مزید جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدعا علیہان کی جانب سے اعتراض میں کوئی جان نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کے درمیان رقوم کے تبادلے (انٹر بینک ٹرانسفرز)سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رقوم پی ٹی آئی نے نامعلوم قرار دیے گئے اکانٹس سے اپنے اعلانیہ اکانٹس میں ٹرانسفر کیں۔ ان میں سے ایک اکاؤنٹ میاں محمود الرشید نے کھولا اور وہی اسے استعمال کرتے تھے۔ وہ اس وقت لاہور میں پارٹی کے صدر تھے۔ اکاؤنٹ کا ٹائٹل پی ٹی آئی لاہور رکھا گیا تھا۔

اس اکاؤنٹ سے 16.182 ملین روپے نکلوائے گئے اور 20.372 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ لاہور سے ہی ایک اور اکاؤنٹ تھا جسے میاں محمد فاروق استعمال کرتے تھے جو اس وقت پارٹی کے سیکرٹری جنرل پنجاب تھے۔ یہ اکاؤنٹ مسلم کمرشل بینک میں تھا جس کا ٹائٹل پی ٹی آئی پنجاب تھا۔ اس ضمن میں اکانٹ کھلوانے کیلئے جو درخواست دی گئی اور جس مجاز شخص بحیثیت دستخط کنندہ نے دستخط کیے تھے وہ عمران خان تھے۔ اس اکاؤنٹ سے 14.097 ملین روپے نکلوائے گئے اور 15.149 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے حبیب بینک پشاور میں اکاؤنٹ کھلوایا اور وہ محمد اشفاق اور محسن ودود کے ہمراہ اسے استعمال کرتے تھے۔ اکاؤنٹ سے 0.782 ملین روپے نکلوائے گئے جبکہ 0.860 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ قیصر کے پاس ایک اور اکاؤنٹ بھی تھا جو بینک اسلامی پشاور میں کھولا گیا جو انہوں نے سابق گورنر شاہ فرمان اور عمران شہزاد کے ہمراہ کھولا۔ اکاؤنٹ کا ٹائٹل پی ٹی آئی این ڈبلیو ایف پی تھا۔ اکاؤنٹ سے 2.11 ملین نکلوائے گئے جبکہ 2.217 ملین روپے اس میں جمع کرائے گئے۔ ایک اور اکاؤنٹ بینک آف خیبر پشاور میں تھا جس کی تفصیلات موجود نہیں کہ اسے کون استعمال کرتا تھا۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے حبیب بینک کراچی میں ایک اکاؤنٹ رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون اور رکن صوبائی اسمبلی ثمر علی خان کے ہمراہ کھولا۔ اکاؤنٹ سے 39.471 ملین روپے نکلوائے گئے جبکہ اس میں 40.224 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ اکاؤنٹ ٹائٹل پی ٹی آئی سندھ تھا۔ سندھ سے پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی سیما ضیا نے حبیب بینک کراچی میں مسز روشنا کے ہمراہ اکاؤنٹ کھولا۔ اس کا ٹائٹل پی ٹی آئی ویمن ونگ سندھ تھا۔ اس اکاؤنٹ میں 1.077 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کا بینک آف پنجاب کی کوئٹہ برانچ میں اکاؤنٹ تھا اور اس وقت وہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر تھے۔ یہ اکاؤنٹ سید عبدالوہاب اور داد خان کے ساتھ مل کر استعمال ہوتا تھا۔ اس میں سے 5.350 ملین روپے نکلوائے گئے جبکہ اس میں 5.556 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ ایک اکاؤنٹ اسلام آباد میں بینک اسلامی کی برانچ میں پی ٹی آئی فیڈرل کیپیٹل کے ٹائٹل سے کھلوایا گیا۔ اکاؤنٹ کھلوانے کی دستاویزات موجود نہیں لہٰذا استعمال کرنے والا شخص نامعلوم ہے۔

اس اکاؤنٹ سے 0.769 ملین روپے نکلوائے گئے جبکہ اس میں 1.154 ملین روپے جمع کرائے گئے۔ کراچی میں اسی ٹائٹل کے ساتھ اسی بینک میں ایک اور اکاؤنٹ کھولا گیا جس کا ریکارڈ موجود نہیں اور شاید بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والے فسادات میں یہ ریکارڈ جل چکا ہے۔ عمران خان کی درخواست پر حبیب بینک کی اسلام آباد برانچ میں دو اکاؤنٹس کھولے گئے جسے سردار اظہر طارق، کرنل (ر)یونس علی رضا اور سیف اللہ خان نیازی استعمال کرتے تھے۔ ان میں سے ایک اکاؤنٹ سے 51 ہزار 750 ڈالرز نکلوائے گئے۔ ایک اور اکاؤنٹ سے 84.14 ملین روپے نکلوائے گئے جبکہ 86.89 ملین روپے جمع کرائے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.