پاکستانفیچرڈ پوسٹ

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کا معاملہ، کیا پاکستان کی سر زمین استعمال ہوئی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر ایسا جواب دیا کہ دشمنوں کی بولتی بند ہو گئی

ایمن الظواہری پر حملے کے حوالے سے سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو: ڈی جی آئی ایس پی آر

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کا معاملہ، کیا پاکستان کی سر زمین استعمال ہوئی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر ایسا جواب دیا کہ دشمنوں کی بولتی بند ہو گئی ۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے حوالے سے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی وضاحت کے بعدکسی بیان کا تک نہیں بنتا، ایمن الظواہری پر حملے کے حوالے سے سوال ہی پیدانہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عالمی دہشتگرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ ایمن الظواہری واقعے پروزارت خارجہ نیبہت واضح بیان جاری کردیاہے جس کے بعد سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی زمین استعمال ہوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں اور اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے جس کا جو دل کرتا ہے وہ سوشل میڈیا پر لکھ دیتا ہے، بیجاقسم کا بیان دیا جاتا ہے جس کے کوئی ثبوت نہیں ہوتے اور اس کا نقصان صرف اور صرف ملک اور قوم کا ہوتا ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ وزارت خارجہ کی وضاحت کے بعد بار بار کسی بیان کی تک نہیں بنتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ یکم اگست کو ہیلی کاپٹرکا افسوسناک حادثہ ہوا، ہیلی کاپٹر فلڈ ریلیف کی کارروائیوں میں مصروف تھا اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی خود فلڈ ریلیف کی نگرانی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ کے قریب موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور یکم اگست کے بعد سے ہم سب کرب سیگزر رہے تھے، اس بیان کی وجہ یہ ہے اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر غلط اور لغو پروپیگنڈا ہوا، یہ پروپیگنڈا اور اس طرح کی قیاس آرائیاں کرنا بہت ہی حساس تھا، اس پروپیگنڈے سے ادارے اور شہدا کے لواحقین کو دکھ اور تکلیف ہوئی۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ پوری قوم شہداکے ساتھ کھڑی ہے، قوم کاجتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، سوشل میڈیاپرمنفی پروپیگنڈا شروع ہوجاتا ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے، ایسے عناصر کو مستردکرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کی باتیں منفی تاثر کے زمرے میں آتی ہیں، یہ رویہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں، اس کی ہر فورم پر حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.