پاکستان

قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر قاتلانہ حملہ کس کے کہنے پر کیا گیا؟ سچائی سامنے آگئی

وائس چانسلر پر فائرنگ کی گئی تاہم خوش قسمتی اور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی حاضر دماغی اور بہادری سے وائس چانسلر محفوظ رہے

قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر قاتلانہ حملہ کس کے کہنے پر کیا گیا اس حوالہ سے گرفتار ملزم نے سب کے نام بتا دیئے ، جس کے بعد سب حیران رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پرکی گئی تاہم وہ محفوظ رہے، ملزم کو گرفتار کرلیا گیا، ملزم سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی شاہ کے مطابق ملزم نے 3 فائر کیے تھے۔ وائس چانسلر پر مبینہ فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ چیئرمین سکیورٹی کمیٹی قائداعظم یونیورسٹی ڈاکٹرسہیل کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی یوم آزادی کی تقریب کے بعد لائبریری ہال سے باہر نکلے تو یونیورسٹی کے انٹرن جواد علی نے وائس چانسلر کی کن پٹی پر پستول تان لیا، ملزم نے کہا سب لوگ پیچھے ہٹ جاؤ، آج انہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔

ایف آئی آر کے مطابق یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق نے ملزم کا پستول والا ہاتھ پکڑ کر اوپر کیا تو اس نے دو فائر کر دیئے ، ملزم جواد علی نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی پر حملہ جان سے مارنے کی نیت سے کیا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے وائس چانسلر پر حملہ کسی کے ایماء پرکیا، جن لوگوں کے ایماء پر حملہ کیا گیا انہیں گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.