پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان سے سینئر صحافی حامد میر کی ملاقات، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی درمیان لڑائی میں شدت کیوں آئی؟ نا اہل کیے گئے تو کیا لائحہ عمل اپنائیں گے؟ پتا چل گیا

مجھ سے ملاقات میں بھی یہ بات زیر بحث آئی،عمران خان نے مجھے تین چار واقعات بتائے کہ ان کے اختلافات کب شروع ہوئے تھے: حامد میر

عمران خان سے سینئر صحافی حامد میر کی ملاقات، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی درمیان لڑائی میں شدت کیوں آئی؟ نا اہل کیے گئے تو کیا لائحہ عمل اپنائیں گے؟ پتا چل گیا ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ میری ملاقات میں عمران خان سے سیاست پر بھی بات ہوئی لیکن ہم نے پرانی باتیں زیادہ کیں۔ملاقات کے آغاز پر ہی عمران خان نے 29 سال پہلے کا ایک واقعہ سنایا جب میں نوجوان رپورٹر تھا۔حامد میر نے مزید کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والی کئی باتوں کا اظہار نہیں کر سکتا تاہم مجھے اس سے تاثر یہ ملا کہ عمران خان کچھ ایشوز پر اپنے مؤقف پر دوبارہ غور و فکر کر رہے ہیں۔ مجھ سے پہلے ان کی اسد عمر،فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے اہم ملاقات ہوئی۔میٹنگ میں اس حوالے سے بات ہوئی کہ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کی جائے۔مجھ سے ملاقات میں بھی یہ بات زیر بحث آئی،عمران خان نے مجھے تین چار واقعات بتائے کہ ان کے اختلافات کب شروع ہوئے تھے۔ مجموعی طور پر مجھے لگ رہا تھا کہ عمران خان ہر طرح کی صورت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اگر عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کے لیے بھی ان کے پاس ایک حکمت عملی ہے اور اگر ان سے بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع کیا جاتا ہے تو اس کے لیے بھی ان کی شرائط موجود ہیں۔عمران خان لڑائی کے لیے بھی تیار ہیں اور نئے انتخابات کے لیے بات جیت کے لیے بھی تیار ہیں۔حامد میر نے مزید کہا کہ ٹیکنیکل ناک آؤٹ والے ایشو پر عمران خان نے کافی بات کی۔ ان کے خیال میں شہباز گل سے میرے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی گئی،اس معاملے پر وہ کافی رنجیدہ اور غصے میں نظر آئے۔میرے خیال سے ان کے پاس ایسی معلومات ہیں جو اب تک انہوں نے شئیر نہیں کی اور سامنے نہیں لائے۔عمران خان نے کہا کہ مجھے نیچے گرانے کے لیے انہوں نے شہباز گل پر تشدد کیا۔میں نے ان کو بتایا کہ جب آپ وزیراعظم تھے تو ہمارے کچھ صحافیوں پر بھی تشدد کیا۔ وہ ابصار عالم کو گولی لگنے کے معاملے سے بھی لاعلم تھے۔عمران خان نے صحافیوں پر تشدد کے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔مجھے لگتا ہے کہ عمران خان ذہنی طور پر تیار ہیں کہ انہیں نااہل کر دیا جائے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ میرے اور دیگر نااہلی کے کیسز میں فرق ہے، مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔عمران خان کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ اگر انہیں ناااہل کیا گیا تو پھر اسلام آباد پر خیبرپختونخوا اور پنجاب سے بھی سیاسی یلغار ہو گی پھر اسلام آباد پولیس، وزیراعظم یا پھر ادارے ان کی سیاسی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.