پاکستانفیچرڈ پوسٹ

وفاق بغاوت’ دہشت گردی اور غداری کے کیسوں پر نظرثانی کرئے پیکا آرڈینس موجود ہوتا تو سب اندر ہوتے : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس

70 سال میں عام آدمی کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں رسائی نہیں ہے ، کم از کم جو جن حالات میں رہ رہے ہیں وہ بھی دیکھنا چاہیے

وفاق بغاوت’ دہشت گردی اور غداری کے کیسوں پر نظرثانی کرئے پیکا آرڈینس موجود ہوتا تو سب اندر ہوتے : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس سامنے آگئے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو رویہ اور ہوتا ہے جبکہ حکومت میں رویہ مختلف ہوتا ہے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشترو اوصاف ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال عدالت ، عمران خان کی لیگل ٹیم ،بابر اعوان ، اعظم سواتی اوردیگر سمیت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کا تحریری جواب پڑھ لیا ہے جو کہا گیا توقع نہیں تھی چیف جسٹس نے استفسار کیا حامد خان صاحب آپ عمران خان کے وکیل ہونگے ؟ ہمیں بہت خوشی ہے اس اہم معاملے میں آپ یہاں وکیل ہے جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ مجھے ایسے بیانات کی بالکل بھی توقع نہیں تھی، آپ کے موکل کا ماتحت عدلیہ کے بارے میں بیان کی توقع نہ تھی،ماتحت عدلیہ اشرافیہ کی عدلیہ نہیں اسے اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 70 سال میں عام آدمی کی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں رسائی نہیں ہے ، کم از کم جو جن حالات میں رہ رہے ہیں وہ بھی دیکھنا چاہیے، میں توقع کر رہا تھا احساس ہو گا کہ غلطی ہو گئی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جن مشکل حالات میں ضلع کچہری میں ججز کام کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، میں یہ توقع کررہا تھا کہ اس پر شرمندگی اورافسوس کیا جائے گا لیکن جس طرح گزرا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہے الفاظ واپس نہیں ہوتے.

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کے فالوورز ہوتے ہیں کچھ کہتے ہوئے سوچنا چاہیے ، گزشتہ 3سال میں بغیر کسی خوف کے ہم نے ٹارچر کا ایشو اٹھایا ہے، ماتحت عدلیہ کو اہمیت دینی ہے، عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر تسلی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ عمران خان کوکریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ہمارے کہنے پرجوڈیشل کمپلیکس بنایا،عمران خان اس عدلیہ کے پاس جاکر اظہار کرتے کہ انہیں عدلیہ پر اعتماد ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ عمران خان کے اس الفاظ میں ایک خاتون جج کو دھمکی دی گئی، تحریری جواب میں ہمیں جو امید نظر آرہی تھی، وہ نہیں ملی.

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 3سال میں یہ عدالت وفاقی کابینہ کو معاملات بھیجتی رہی کاش اس وقت بھی آواز اٹھاتے ، آپ کے جواب سے اندازہ ہوا کہ عمران خان کو احساس نہیں ، جواب سے لگتا ہے عمران خان کو احساس ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ؟دوران سماعت اسلام آبادہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا آپ خاموش رہیں یہ عدالت اور مبینہ توہین عدالت کے ملزم کامعاملہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.