پاکستانفیچرڈ پوسٹ

توہین عدالت کیس کی سماعت، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان پر فرد جرم عائد کیوں نہیں کی ؟ چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں

عمران خان نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں،میں معافی مانگتا ہوں اگر میں نے کوئی لائن کراس کی

توہین عدالت کیس کی سماعت، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان پر فرد جرم عائد کیوں نہیں کی ؟ چونکا دینے والی تفصیلات منظر عام پر آگئیں ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجز بینچ نے کیس پر سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آج فرد جرم عائد نہیں کر رہے ہیں،عمران خان نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں،میں معافی مانگتا ہوں اگر میں نے کوئی لائن کراس کی،اگر خاتون جج کو تکلیف پہنچی ہو تو معافی مانگتا ہوں۔

یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا عمل نہیں ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی خودمختار عدلیہ کے لیے کوشش نہیں کرتا۔میں نے ارادی طور پر خاتون جج کو دھمکی نہیں دی تھی۔میں نے اپنی تقرری میں لیگل ایکشن کے لیے کہا تھا۔ میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔میں آئندہ اس قسم کی کوئی بات نہیں کروں گا۔جیسے جیسے مقدمہ آگے چلا مجھے سنجیدگی کا احساس ہوا۔ آپ کہیں تو خاتون جج کے پاس جا کر یقین دلاؤں گا۔خاتون جج کو یقین دلاؤں گا کہ نہ میں اور نہ میری پارٹی آپ کو نقصان پہنچائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ آج چارج فریم نہیں کر رہے،آپ کے بیان حلفی پر غور کریں گے،فرد جرم عائد نہیں کرتے،آپ نے اپنے بیان کی سنگینی کو سمجھا جس پر عدالت آپکو سراہتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جس انداز اور جس اجتماع میں بیان دیا گیا وہ زیر غور تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.