پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آج قسمت کی دیوی سیاستدانوں پر مہربان، عمران خان، مونس الٰہی کے بعد مریم نواز کو والد نوازشریف سے ملاقات کا پروانا مل گیا، ن لیگی شیروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی درخواست منظور کرتے ہوئے مریم نواز کا پاسپورٹ انہیں واپس کرنے کی ہدایت کر دی

آج قسمت کی دیوی سیاستدانوں پر مہربان، عمران خان، مونس الٰہی کے بعد مریم نواز کو والد نوازشریف سے ملاقات کا پروانا مل گیا، ن لیگی شیروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر و سابق وزیراعظم مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کے لیے درخواست پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے کی۔ چیف جسٹس امیر بھٹی نے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ سے استفسار کیا کہ کیا مریم نوازنے پہلے بھی پاسپورٹ واپسی کی درخواستیں دائر کی تھیں، جس پر مریم کے وکیل نے بتایا کہ موجودہ درخواست کی روشنی میں پرانی درخواستیں غیر مؤثر ہو چکیں۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ مریم نواز کو پاسپورٹ جمع کرانے پر ضمانت ملی، 4 سال ہو گئے لیکن ابھی تک چوہدری شوگر ملز کا کوئی ریفرنس نہیں آیا، اگر یہ کیس فائل کرتے اور مریم اس کا دفاع کرتیں تو صورتحال مختلف ہوتی، کسی کی نقل و حرکت کو روکنا بنیادی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریم چاہتی تھیں کہ یہ کیس فائل ہوتا تاکہ وہ اس کے دفاع میں آتیں، لمبی تاخیر کرنا قانون کے غلط استعمال کے مترادف ہے، لمبی تاخیر پر عدالتیں بغیر میرٹ دیکھے کیس ختم کرا دیتی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا بھی ہے جہاں سے سارے قوانین آتے ہیں۔ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ابلیس کو بھی سزا سے پہلے اپنا مؤقف دینے کا موقع دیا تھا، صلح حدیبیہ بھی لوگوں کے حقوق سے متعلق تھا، ہم خواہ مخواہ دائیں بائیں جاتے ہیں، اللہ تعالی نے سیدھا سیدھا کہا ہے کہ سننے کا موقع فراہم کیے بغیر سزا نہیں دینی، جس کیس میں سزا تھی وہ پاسپورٹ واپسی میں رکاوٹ بن سکتا تھا لیکن وہ بھی اب نہیں رہا۔ جسٹس امیر بھٹی نے پوچھا کہ عدالت نے اپنی تسلی کے لیے پاسپورٹ رکھوایا تھا کیا وہ تسلی ختم ہو گئی؟

مریم نواز کے وکیل نے جواب دیا کہ مریم نے 4 سال تک انتظار کیا ہے،کوئی ریفرنس دائر یا تفتیش نہیں کی گئی۔ جسٹس امیر بھٹی نے پھر پوچھا کہ کیا ہم ضمانت کے فیصلے میں شرط والے حصے کی ترمیم کریں گے یا اس حصے کو واپس لیں گے؟ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت مریم نواز کی ضمانت کے حکم میں ترمیم کر سکتی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں پاسپورٹ واپس دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جسٹس امیر بھٹی نے پوچھا کہ کیا مریم کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بارے میں معلوم نہیں ہے، چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ تو وہ کون بتائے گا؟ یا آپ نے صرف ایک فقرہ سن لیا کہ کچھ نہیں کرنا، مخالفین آجائیں تو زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں اپنے ہوں تو زمین پر بچھ جاتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی درخواست منظور کرتے ہوئے مریم نواز کا پاسپورٹ انہیں واپس کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.