پاکستان

حیدر آباد کی لمبی قبروں میں کتنائی سچائی، ہلا کر رکھ دینے والی حقیقت سامنے آگئی

حیدرآباد میں20 گز لمبائی کی قبر سائٹ ایریا میں قائم پھلیلی نہر کے قریب قبرستان میں واقع حضرت سخی نورالدین شاہ کی ہے

حیدر آباد کی لمبی قبروں میں کتنائی سچائی’ ہلا کر رکھ دینے والی حقیقت سامنے آنے پر سب دنگ و حیران رہ گئے، اور ایک سی تحقیق سامنے آئی جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔

تفصیدلات کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی ہاں سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں 2 ایسی قبریں موجود ہیں جو عام انسانی قبروں سے کافی لمبی ہیں ،ان کی لمبائی تقریبا 9 سے 20 گز ہے ۔ حیدرآباد میں20 گز لمبائی کی قبر سائٹ ایریا میں قائم پھلیلی نہر کے قریب قبرستان میں واقع حضرت سخی نورالدین شاہ کی ہے جو اندازے کے مطابق 7 ہجری میں عربستان سے سندھ میں آئے اور یہاں آباد ہوکر اسلام پھیلایا، تاہم ان کے انتقال کے اور اس قبر کے تعمیر ہونے کی واضح تاریخ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس قبر پر علاقہ مکینوں کی جانب سے مزار بنایا گیا ہے جہاں دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔ اس مزار اور قبرستان کی دیکھ بھال کرنے والے گلزار سومرو سے جب اس قبر کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آبا اجداد سے یہی سنتے ہوئے آرہے ہیں کہ یہ بزرگ 7 ہجری میں عربستان سے سندھ آئے تاہم اس حوالے سے کسی کو واضح معلومات نہیں ہیں تاہم میرا کام قبرستان اور ساتھ قائم مسجد کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

حیدرآباد میں9 گز بابا کے نام سے مشہورحضرت گل حیدر شاہ اصحابی کی قبر تاریخی پکا قلعہ چوک کے بالکل سامنے واقع ہے۔ اس قبر پر بھی علاقہ مکینوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت مزار قائم کیا گیا ہے۔حضرت گل حیدرشاہ اصحابی کے حوالے سے بھی درگاہ شریف پر کوئی واضح معلومات نہیں لیکن ایک عام روایت کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ان کا قد اتنا طویل تھا کہ جب 18 ویں صدی میں غلام شاہ کلہوڑو پکا قلعہ قائم کروا رہے تھے تو اس وقت گل حیدرشاہ اصحابی زندہ تھے۔

روایات کے مطابق گل حیدرشاہ اصحابی نے پکا قلعہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور اپنے طویل قد کی وجہ سے وہ مزدوروں کو نیچے سے سامان با آسانی اوپر فراہم کرتے تھے اور شام کے وقت پکا قلعہ کے سامنے موجود ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر زائرین کے مسئلے سنتے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے تاہم ان کے انتقال کے بعد غلام شاہ کلہوڑو نے اسی درخت جہاں گل حیدرشاہ اصحابی بیٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے وہاں ان کی قبر تعمیر کروائی جس کے بعد سے یہ نوگز بابا کے نام سے مشہور ہو گئے۔پاکستان میں حیدرآباد کے علاوہ کئی شہروں میں ایسی قبریں موجود ہیں جن کی لمبائی عام قبروں سے کافی زیادہ ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق چکوال کے مشرقی محلے پیر صحابہ، غربی قبرستان میں 9 گز لمبی قبر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جہلم، نارووال، چنیوٹ، گجرات اور آزاد کشمیر وغیرہ میں بھی ایسی طویل قبریں موجود ہیں۔

اس بات کی واضح تصدیق نہیں ہوسکی کہ ان لمبی قبروں میں دفن افراد کا قد بھی واقعی اتنا لمبا تھا یا صرف یہ قبریں صرف لوگوں کی توجہ سمیٹنے کے لیے لمبی بنائی گئی ہیں۔ ان طویل قبروں کے حوالے سے تاریخ خاموش دکھائی دیتی ہے کیونکہ ان قبروں کے بارے میں جتنی بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں وہ مستند نہیں اور محض روایات اور آبا اجداد سے سنی ہوئیں باتیں ہی نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ ان قبروں میں موجود افراد کا قد حقیقت میں ہی اتنا لمبا تھا جبکہ کچھ روایات یہ ہیں کہ دراصل ان قبروں میں دفن افراد اصل میں مجاہدین تھے جن کے نیزوں کی لمبائی 9 گز یا اس سے زائد تھی، اس لیے اس نسبت سے یہ 9 گز کے نام سے مشہور ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد انہیں ان کے نیزوں سمیت دفن کیا گیا اس وجہ سے یہ قبریں عام قبروں سے زیادہ لمبی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے اس خطے میں جب گنبد کی تعمیر کا رواج نہیں ہوتا تو مجاہدین اور شہدا کی قبروں کو ممتاز کرنے کے لیے ان قبروں کو احترام کے طور پر دوسری قبروں سے لمبا بنایا جاتا تھا تاکہ شناخت میں آسانی ہو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.