پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ملتان کے نشتر اسپتال کی چھت سے ملنے والی لاوارث نعشیں ملنے کا معاملہ، مختلف کمیٹیاں تشکیل، حیران کن انکشافات سامنے آنے پر ہر طرف خوف وہراس پھیل گیا

نشتر اسپتال کی چھت سے ملنے والی لاوارت نعشوں کے معاملہ کا سارا ملبہ پولیس نے اسپتال انتظامیہ پر ڈال دیا

ملتان کے نشتر اسپتال کی چھت کے کمرے سے ملنے والی درجنوں لاوارث لاشوں کے معاملے کی انکوائری کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے نشتر اسپتال کی چھت پر لاوارث لاشیں رکھنے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ لاشیں چھت پر پھینک کر غیر انسانی فعل کا ارتکاب کیا گیا ہے، ذمہ دار عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ سیکرٹری ہیلتھ ساتھ پنجاب نے معاملے کی انکوائری کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی 3 روز میں اپنی رپورٹ سیکرٹری ہیلتھ ساتھ کو پیش کرے گی۔ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے بھی 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی تمام معلومات کے ساتھ اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کرے گی۔

ملتان کے نشتر اسپتال کے ایک کمرے میں لاشوں کی موجودگی کے انکشاف کے بعد متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔ خیال رہے کہ اسپتال کی چھت سے چند لاشیں ملنے کے بعد ایک کمرے میں متعدد لاشوں کو دریافت کیا گیا تھا۔اس بارے میں اسپتال کے کچھ ملازمین نے بتایا کہ نشتر اسپتال کے مردہ خانے کے فریزر کئی سال خراب ہیں اور 5 میں سے بس ایک فریزر کام کررہا ہے، جس کے باعث وہاں 7 سے 8 میتیں رکھی جاسکتی ہیں۔ اس مردہ خانے میں 40 میتیں رکھنے کی جگہ ہے مگر لاوارث لاشوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ملازمین کے مطابق باقی لاشوں کی حالت ویسے ہی خراب ہوجاتی ہیں جس کے بعد انہیں میڈیکل کے طلبہ کے تجربات کے لیے بھیج دیا جاتا ہے اور ان کے تجربات کے بعد انہیں ایسے ہی پھینک دیا جاتا ہے اور وہ لاوارث پڑی رہتی ہیں۔ اس معاملے پر اسپتال کی انتظامیہ نے 3 رکنی ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

وزیراعلی پنجاب پرویز الٰہی کے مشیر طارق زمان گجر نے کہا ہے کہ نشتر اسپتال کے دورے کے دوران زبردستی سردخانہ اور چھت کھلوائی تو 200 لاشیں سرد خانے میں تھیں۔ تفصیلات کے مطابق طارق گجر کا کہنا تھاکہ بدھ کو دن 2 بجے نشتر اسپتال کا دورہ کیا تو مجھے ایک شخص نے کہا اگر نیک کام کرنا ہے تو سرد خانے چلیں، میں نے سرد خانہ کھولنے کے کہا تو نہیں کھول رہے تھے جس میں نے کہا اگر نہیں کھولا گیا تو ابھی ایف آئی آئی آر کٹواتا ہوں۔ ان کا کہنا تھاکہ سرد خانہ کھلوایا تو وہاں بہت ساری لاشیں تھیں، اندازیکے مطابق 200 لاشیں سرد خانے میں تھیں، لاشوں پرایک کپڑا تک نہیں تھا، اپنی 50 سالہ عمر میں پہلی بار ایسا دیکھا۔

مشیر وزیرعلی کا کہنا تھاکہ اسپتال کی چھت پر لاشوں کو گدھ اور کیڑے کھا رہے تھے جبکہ چھت پر 3 تازہ لاشیں تھیں اور پرانی 35 لاشیں تھیں جنہیں گنتی کیا اور ویڈیو بنوائی۔ طارق گجر کا کہنا تھاکہ کچھ لاشیں ایسی لگ رہی تھیں جو دو سال تک پرانی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وی سی سے پوچھا کہ یہ لاشیں یہاں کیوں اس طرح رکھی ہیں؟ وی سی نے جواب دیا کہ یہ لاشیں میڈیکل کے طلبہ کے تجربات کیلئے رکھی گئی ہیں۔

ملتان میں نشتر اسپتال کی چھت پر واقعے کمرے اور صحن سے لاشیں ملنے کے بعد پولیس نے اسپتال انتظامیہ پر ذمہ داری ڈال دی۔ سٹی پولیس آفیسر (سی پی او)ملتان خرم شہزاد نے کہا ہے کہ لاوارث لاشوں کی تدفین نشتراسپتال انتظامیہ کا کام ہے۔ سی پی او کے مطابق دفعہ 174 کی کارروائی کے بعد لاوارث لاش نشتر کے سردخانے میں رکھی جاتی ہے، پولیس کا سردخانے میں لاش رکھوانے کے بعد کوئی عمل دخل باقی نہیں رہتا، قانون کیمطابق لاوارث لاشیں اسپتال میں رکھوانیکی پولیس پابند ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ لاشوں کو کتنا عرصہ رکھنا اوران کا کیا کرنا ہے؟ یہ اسپتال انتظامیہ کا کام ہے، اگر وارث آجائے تو قانونی کارروائی بعد اسپتال انتظامیہ لاش حوالیکردیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.