پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مری کے کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں طالبعلم سے مبینہ ریپ کا واقعہ، مقدمہ درج، پولیس کی مدد لینے پر کالج انتظامیہ آپے سے باہر، والدین کو یرغمال بنا لیا ‘ خطرناک نتائج کی دھمکیاں

مقدمہ درج کروانے پر کالج انتظامیہ نے متاثرہ طالبعلم کے والد نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف انھیں یرغمال بنا گیا بلکہ پولیس کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا

مری کے کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں طالبعلم سے مبینہ ریپ کا واقعہ، مقدمہ درج، پولیس کی مدد لینے پر کالج انتظامیہ آپے سے باہر، والدین کو یرغمال بنا لیا ‘ خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مشہور سیاحتی مقام مری میں واقع ایک کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں ایک طالبعلم کے ساتھ چار سینئر طالب علموں کی جانب سے مبینہ ریپ کیے جانے کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکے کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں دعوی کیا گیا ہے کہ جب متاثرہ طالبعلم نے کالج پرنسپل سے رابطہ کیا اور انھیں اس بابت آگاہ کیا تو پرنسپل نے طالب علم کو کہا کہ وہ اس واقعہ کا کسی سے ذکر نہ کریں ورنہ انھیں کالج سے نکال دیا جائے گا۔ واقعے کے بعد جب متاثرہ طالب علم کے والدین مری پہنچے اور واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تو کالج انتظامیہ نے متاثرہ طالب علم کے والد کے دعوے کے مطابق نہ صرف انھیں کالج کے اندر یرغمال بنا لیا بلکہ پولیس کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

راولپنڈی پولیس ترجمان کے مطابق کار سرکار میں مداخلت اور مزاحمت کی دفعات کے تحت کالج انتظامیہ کے خلاف ایک الگ ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ بی بی سی نے کالج کے پرنسپل سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے اپنے ادارے میں اس نوعیت کا واقعہ پیش آنے کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تاکہ اس مسئلے کو ہوا دی جا سکے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس حکام کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں۔

واقعے کا مقدمہ متاثرہ طالب علم کے والد کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں والد نے کہا کہ گذشتہ دنوں جب ان کی اپنے بیٹے سے فون پر بات ہوئی تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ میں نے فون پر بار بار پوچھا کہ کیا ہوا تو وہ نہیں بتا رہا تھا۔ جس پر میں فی الفور مری پہنچا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ میں مری سے اپنے بیٹے کو لے کر گھر آ گیا۔ جہاں پر اس کی طبعیت بحال ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں رات ایک بجے چار مختلف لڑکوں نے ریپ کیا ہے۔ جن میں سے ایک کے پاس پستول بھی تھا۔ انھوں نے دھمکی دی کہ شور مچایا یا کسی کو بتایا تو جان سے مار دیں گے۔ مقدمے میں کہا گیا کہ بچے نے اس واقعے سے متعلق پرنسپل کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتانا ورنہ سکول سے نکال دوں گا۔

متاثرہ طالب علم کے والد کے مطابق جب ہم نے پولیس کی مدد حاصل کی اور اس کے بعد کالج پہنچے تو وہاں پر ہمیں کالج انتظامیہ کی جانب سے انتہائی نامناسب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے اور میرے ساتھ موجود دیگر لوگوں کو کالج انتظامیہ نے عملا یرغمال بنا لیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کالج سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ہمیں ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا۔ ہمیں کہا جارہا تھا کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، تاہم کسی نہ کسی طرح ہمیں پولیس نے وہاں سے بحفاظت نکالا۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحسن کے مطابق مری میں واقع ایک کیڈٹ کالج کے ہاسٹل میں پیش آنے والے واقعے کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔ تفتیش کے نتیجے میں اگر کوئی اور ملزم ہوا تو اس کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد متاثرہ طالبعلم کا میڈیکل کروا لیا گیا ہے جس کی بنیاد پر گرفتاریاں کی گئی ہیں تاہم میڈیکل کی تحریری رپورٹ فی الحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ سجاد الحسن کے مطابق مری پولیس جب قانونی کارروائی کے لیے تعلیمی ادارے پہنچی تو اس کو بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس پر مری پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے اور پولیس کے خلاف مزاحمت اور قانونی کارروائی میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا بھی مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اے ایس آئی کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جب پولیس کارروائی کے لیے پہنچی تو پولیس پارٹی پر پتھرا کیا گیا۔ جس سے سرکاری گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس موقعے پر ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔

متاثرہ طالبعلم کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا اس وقت سکتے کی کیفیت میں ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ہر ممکن کوشش کریں کہ یہ اس واقعے کو بھول جائے۔ اس وقت اس کا علاج چل رہا ہے۔ میں اپنی حالت کو بیٹے کی زندگی اور تحفظ کے لیے نارمل رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ بیٹے کا مستقبل محفوظ کر سکوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بیٹے کے اچھے مستقبل کے لیے لاکھوں روپے کی فیسیں ادا کی تھیں۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ وہاں پر ایسا واقعہ پیش آئے گا جس کے نتیجے میں ہمیں اپنے بیٹے کی زندگی کے لالے پڑ جائیں گے۔ اس وقت ہمارا سارا خاندان سکتے کی کیفیت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا فیصلہ ہے کہ میں سکول اور پھر ملزماں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا، ملزماں کو کبھی معاف نہیں کروں گا تاکہ آئندہ کسی اور طالبعلم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔

رابطہ کرنے پر کالج پرنسپل نے کہا کہ ان کا کیڈٹ کالج ایک طویل عرصے سے طلبا کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت میں مصروف عمل ہے اور انھیں فورسز اور پاکستان کے دیگر بڑے اداروں میں بھیجنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بورڈنگ اداروں میں چھوٹے موٹے مسائل لگے رہتے ہیں، کبھی طلبا لڑ پڑتے ہیں، کبھی ریگنگ ہو جاتی ہے اور بعض اوقات بچے یہ معاملات اپنے والدین تک بھی پہنچا دیتے ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض سے بچے یہاں آتے ہیں اور عمومی ماحول میں بچوں کے درمیان یگانگت کا ماحول غالب رہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ادارے نے محنتی، وطن سے محبت اور وطن کے لیے کام کرنے والے بہت سے نوجوان تیار کیے ہیں۔ ایک واقعہ پیش آیا جس میں ہمارے چار طلبا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ متاثرہ بچہ اپنی والدہ کے ہمراہ 16 اکتوبر کو ہمارے ادارے سے چھٹی پر گیا تھا کیونکہ والدہ نے ہمیں بتایا کہ ان کا بیٹا چند طلبا کے رویے سے پریشان ہے اور گھر جانا چاہتا ہے جس کی بنیاد پر ہم نے انھیں گھر جانے کی اجازت دے دی۔ پرنسپل نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ اس معاملے اور کوئی بات چیت نہیں ہوئی مگر کل ایک دم ہی پولیس آئی اور کہا کہ انھیں چار بچے مطلوب ہیں۔ دو بچے ہمارے پاس موجود تھے جنھیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ادارے میں بہت سی بلڈنگز اور کمرے ہیں جہاں کیمرے موجود ہیں اور اہلکار بچوں کی نگرانی کے لیے موجود رہتے ہیں اس لیے ہراسانی کا اس نوعیت کا سنگین واقعہ ہونا ممکن نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ کالج کی حدود میں اور اتنے بچوں کی موجودگی میں اس نوعیت کا واقعہ پیش آئے۔ اس معاملے میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ مگر ہم حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.