پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس کو دکھانے پر پابندی کا معاملہ، وفاقی حکومت بھی میدان میں آگئی ، ایسا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

وفاقی حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)کو عمران خان کی تقریر پر پابندی فو ری ہٹانے کی ہدایت کردی

پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس کو دکھانے پر پابندی کا معاملہ، وفاقی حکومت بھی میدان میں آگئی ، ایسا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیمرا آرڈیننس2022ء کے سیکشن 5 کو بروئیکار لاتے ہوئے پیمرا کو ہدایت جاری کی ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہیکہ پیمرا آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت قانونی تقاضوں پر بدستور عمل درآمد یقینی بنائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نیقانون کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے پیمرا کو ہدایت بھجوائی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پیمرا کے سیکشن 5 کے تحت پابندی اٹھانیکی ہدایت کی گئی ہے، وزیراعظم نے عمران دور کی تلخ روایات ختم کرکے نئی روایت قائم کی ہیں، نوازشریف، مریم نواز ودیگر سے عمران خان نے جو کیا ہم اس پریقین نہیں رکھتے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم جمہوری اصولوں اور اظہار رائیکی دستوری آزادیوں پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی مخالفین کے خلاف عمران خان جوبولنا چاہتے ہیں بولیں، عمران خان کے حامیوں کو فتنے، فساد اور جھوٹ کی حقیقت سمجھنا ہوگی۔

خیال رہے کہ پیمرا نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)عمران خان کے متنازع بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس دکھانے پرپابندی لگادی تھی۔ پیمرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے لانگ مارچ میں تقاریر اور چار نومبر کو پریس کانفرنس کی جس میں ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے، عمران خان نے قتل کی سازش کے بے بنیاد الزامات لگا کر ریاستی اداروں کی ساکھ پر حملہ کیا۔

پیمرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تقاریر مختلف ٹی وی چینلز پر بغیر کسی ادارتی نگرانی کے نشرمکرر ہو رہی ہیں، ایسے مواد کے نشر ہونے سے عوام کے مابین نفرت پیدا ہونے کا امکان ہے، ایسے مواد کے نشر ہونے سے امن و عامہ کو نقصان پہنچنیکا امکان ہے اور قومی سکیورٹی کے خطرے سے دوچار ہونیکا امکان ہے۔ پیمرا کا کہنا تھا کہ ایسا مواد نشر کرنا آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت سنگین خلاف ورزی ہے، قومی قیادت اور ریاستی اداروں کے لیے ایسے نفرت انگیز، غلیظ اور بلا جواز بیانات خلاف آئین ہیں، خلاف ورزی کیے جانے پر بغیر شوکاز نوٹس ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.