شوبز

عالیہ بھٹ کی پھر ڈیپ فیک ویڈیو آگئی، اے آئی نے نیندیں اڑا دیں

اس سے قبل بھی بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی دو ڈیپ فیک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں

لاہور(شوبزڈیسک)بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی ایک اور ڈیپ فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ عالیہ بھٹ کی نئی ڈیپ فیک ویڈیو میں انہیں ”میرے ساتھ تیار ہوں ” کے ٹرینڈ میں حصہ لیتے دکھایا گیا ہے جس میں وہ سیاہ کُرتا پہنے میک اپ کرتی ہوئی تیار ہو رہی ہیں۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ جب بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی ڈیپ فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہو، اس سے قبل بھی انکی دو ڈیپ فیک ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں سے ایک ویڈیو میں بھارتی اداکارہ وامیکا گبی کا چہرہ عالیہ کے چہرے سے ملایا گیا تھا۔

سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام کے استعمال کرنے والوں نے عالیہ بھٹ کی وائرل ڈیپ فیک ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔انسٹاگرام استعمال کرنے والے ایک صارف نے لکھا کہ ” مصنوئی ذہانت (اے آئی) دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے”، ایک اور صارف نے لکھا کہ ”مجھے اب اے آئی سے ڈر لگنے لگا ہے”۔اس سے قبل بھی کئی مشہور بالی وڈ شخصیات کی ڈیپ فیک ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں جن میں کاجول، رشمیکا مندانا، کترینہ کیف، عامر خان، رنویر سنگھ اور دیگر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ڈیپ فیک ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں کسی فرد کے چہرے یا آواز کو دوسرے شخص سے با آسانی بدلا جاسکتا ہے، جس سے لگتا ہے کہ وہ ایسے شخص کی ویڈیو یا آڈیو ہے جو دراصل اس کی ہوتی ہی نہیں۔یہ ٹیکنالوجی 2019 میں مین اسٹریم کا حصہ بنی تھی اور ماہرین کے مطابق اس سے مصنوعی عریاں مواد تیار کر کے خواتین کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور سیاسی تنازعات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔آغاز میں ڈیپ فیک تصاویر یا ویڈیوز کو آسانی سے پکڑا جاسکتا تھا مگر اب یہ ٹیکنالوجی زیادہ بہتر ہوگئی ہے اور اسے پکڑنا بھی مشکل ہو گیا ہیں۔

اب گوگل کی جانب سے ایڈورٹائزرزکو ایسی ویڈیوز کی تشہیر کیلئے بھی پابند کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے
لوگوں کو ڈیپ فیک غیر اخلاقی مواد ویڈیوز کو تیار کرنے میں مدد ملے۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق گوگل کی نئی پالیسی کے تحت ایڈورٹائزرز کو گوگل ایسے اشتہارات کیلئے پابند کر رہا ہے جس کے ذریعے صارفین کو عریاں قسم کے مواد کی تیاری مثلاً(کسی شخص کی تصویر کو تبدیل کر کے نئی تصویر کی تیاری) میں مدد ملتی ہو۔فی الحال گوگل نے ایڈورٹائزرز کو ’جنسی طور پر واضح مواد کی تشہیر‘ بشمول (کونٹینٹ، تصویر، آڈیو، یا گرافک) پر پابند کیا ہوا ہے تاہم نئی پالیسی اب ایڈورٹائرز کو ایسی خدمات کے اشتہارات پر بھی پابند کرتی ہے جو صارفین کو اس قسم کا مواد بنانے میں بھی مدد کریں، پھر چاہے وہ کسی شخص کی تصویر کو تبدیل کرنے یاپھر نئی تصویر کو تیار کرنے جیسے مواد پر مشتمل ہو۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل کی نئی پالیسی کے تحت ایڈیورٹائرز پر یہ پابندی 30مئی سے نافذالعمل ہوگی

گوگل کے ترجمان مائیکل ایکمین نے ٹیکنالوجی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ”کمپنی کا یہ اقدام
ان سروسز کے اشتہارات کے فروغ کو روکنے کیلئے ہے جو ڈیپ فیک پورنوگرافی یا عریاں مواد تخلیق کرنے کی پیشکش کرتے ہوں‘، نئی پالیسی ایڈورٹائزرز کو جنسی طور پر واضح یا عریانیت کے لیے تبدیل یا تخلیق کیا گیا مواد فروغ نہ کرنے کا پابند کرتی ہے، مثال کے طور پر ایسی ویب سائٹس یا ایپس جو لوگوں کو ڈیپ فیک غیر اخلاقی مواد بنانے کا طریقہ مہیا کرتی ہوں۔ایکیمین کا کہنا ہے کہ زیر غور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی اشتہار کو گوگل سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2023 کے دوران گوگل نے جنسی مواد سے متعلق اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر 1.8 بلین اشتہارات کو ہٹا دیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button