سوشل ایشوز

لاک ڈاؤن؛ روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی کردی گئیں

خواتین،بزرگ،بچے،مرد اورنوجوان کھانے پینے کی اشیاکی خریداری کرتے ہوئے دکھائی دیے

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر عمل درآمد کے پہلے روز (پیر)کو شہر میں معمولات زندگی معطل رہے تاہم حکومت کی ہدایت کے مطابق کریانہ اسٹور، مرغی اورگوشت کی دکانیں ، ملک شاپس ، میڈیکل اسٹورز ، سبزی اور دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاکی دکانیں کھلی رہیں اس کے علاوہ تمام دکانیں ، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر رہی جبکہ اہم شاہراہوں کورکاوٹیں لگا کر پولیس اور رینجرز کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں گشت بھی کرایاگیا۔

مختلف علاقوں میں قانون نافذکرنے والے ادارے گشت کر رہے ہیں ،پولیس کی جانب سے مساجد اور موبائلوں پر نصب لاڈو اسپیکر پر اعلانات کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی کی جاتی رہی ، سڑکوں پر موٹر سائیکل یا دیگر گاڑیوں میں موجود دو یا اس سے زائد افراد کو روک پر سیکیورٹی ادارے ان سے شناختی کارڈ طلب کرنے کے ساتھ ان سے باہر نکلنے کی وجوہ کے بارے میں بھی معلومات لیتے ہوئے دکھائی دیے۔

اس حوالے سے لیاقت آبادناظم آباد، ایف بی ایریا، گلشن اقبال ، نارتھ کراچی ، سائٹ اور گرومندر سمیت مختلف علاقوں کا سروے کیاگیا جس کے دوران دیکھنے میں آیا کہ مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگ گھروں سے باہر نکل رہے ہیں جن میں سے بیشتر خواتین ، بزرگ ، بچے ، مرد اور نوجوان کھانے پینے کی اشیاکی خریداری کرتے ہوئے دکھائی دیے اور اس دوران بہت کم لوگوں نے ماسک کا استعمال کیا تھا جبکہ دکانداروں نے بھی ماسک پہنے کی ہدایت کو نظراندازکردیا۔

ایک کریانہ اسٹور پر موجود مالک شاہد نے بتایا کہ لوگ نے لاک ڈاؤن  کے اعلان سے قبل آٹے ، تیل ، گھی ، چاول ، دالیں ، چینی ، چائے کی پتی اور دیگر اجناس ضرورت سے زیادہ ذخیرہ کرلیا ہے ، اس کی وجہ سے آٹے کی قلت ہے، ایک خاندان کی ضرورت ہفتہ میں اگر 10 کلو آٹا ہے تو اس نے 20  کلوآٹاخرید کراسٹاک کر لیا ہے، لوگ آٹے کے حصول میں پریشان ہیں۔

Tags
Back to top button
Close