سوشل ایشوز

دودھ مہنگےداموں میں فروخت،ڈیری فارمرزکوطلب کرلیا گیا

شہرقائد میں دودھ سرکاری نرخ سےزائد قیمت پرفروخت ہونےکےسبب مسابقتی کمیشن نےڈیری فارمرز کو طلب کرلیا

شہری انتظامیہ اور سندھ حکومت کی غفلت اور سرکاری نرخ پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے پریشان کراچی کی شہریوں کے لیے ایک امید پیدا ہوگئی، مسابقتی کمیشن پاکستان نے کراچی میں دودھ کی زائد قیمت پر فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈیری فارمرز کی تمام نمائندہ تنظیموں کو 16نومبر کو طلب کرلیا۔ مسابقتی کمیشن کی جانب سے شہر قائد میں دودھ کی غیر سرکاری اور زائد نرخوں پر فروخت کے معاملے کی چھان بین کے لیے تین انکوائری افسر مقرر کیے گئے ہیں جن میں دو خواتین افسران بھی شامل ہیں۔

اس تین رکنی انکوائری ٹیم نے ڈیری فارمرز کی تمام نمائندہ تنظیموں کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں 16نومبر کو طلب کیا ہے جہاں ڈیری فارمرز کی ان تنظیموں کے نمائندگان سے شہر میں دودھ کی غیر سرکاری اور زائد قیمت پر فروخت کے حوالے سے تفصیلات طلب کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ کراچی میں دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے لٹر ہے تاہم شہر میں کھلا دودھ 120 تا 130 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، کمشنر کراچی دودھ کی قیمتوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، شہریوں نے اب دودھ کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے مسابقتی کمیشن سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔

انجمن تحفظ حقوق صارفین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ زائد قیمتوں پر دودھ فروخت کرنے والوں پر جرمانوں کے بجائے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ایسے باڑے اور دکانیں بند کردی جائیں جہاں سے عوام کو مہنگا دودھ فروخت کیا جارہا ہو۔ دوسری جانب ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمتوں کا تعین پیداواری لاگت اور مہنگائی کے تناسب سے کیا جانا چاہیے اور دودھ کی قیمتوں کو حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے تا کہ دودھ کی پیداوار متاثر نہ ہو کیونکہ دودھ کا کام کرنے والے اکثر افراد مہنگائی اور مالی نقصان کے باعث کاروبار بند کرچکے ہیں۔

Back to top button