سوشل ایشوزفیچرڈ پوسٹ

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں پر بچیوں کے اغواء اور لاپتہ ہونے کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں‘ والدین خود کشیاں کرنے لگے، پولیس خاموش تماشائی بن گئی

ضلع سے لاپتہ 4 لڑکیاں تا حال بازیاب نہ ہو سکیں، والدین کا اغوا کا شبہ جب کہ ایک دلبرداشتہ باپ نے خودکشی کر لی

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں پر بچیوں کے اغواء اور لاپتہ ہونے کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئیں‘ والدین خود کشیاں کرنے لگے، پولیس خاموش تماشائی بن گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع بدین میں امن امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، پولیس منشیات سمیت دیگر جرائم پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ لڑکیوں کے لاپتہ ہونے اور اغوا کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ لاپتہ3 بچیوں کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔2 بچیوں کے والد محکمہ پولیس میں اے ایس آئی اور کانسٹیبل ہیں جبکہ کراچی میں اغوا لڑکی کے باپ نے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔ محرم اموں ملاح مزدور اورسیرانی کا رہائشی تھا جس کی بیٹی کو کراچی میں پٹھان برادری نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا تھا۔ بدین کے وارڈ نمبر ایک اتفاق کالونی کی رہائشی، اے ایس آئی کی بیٹی اور ایلیمنٹری کالج میں سال اول کی طالبہ18 سالہ کانتا ہرکو مل کو کالج سے گھر واپس جا تے ہوئے سفید رنگ کی کار میں موجود مسلح ملزمان زبردستی ہمراہ لے گئے۔

بچی کے والد نے بدین ماڈل تھانہ پر اغوا کا مقدمہ نوید ولد محمد حسن کھوسو، محمد حمزہ ولد سرفراز سمیت دو نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرایا ہے۔4 روز گزر جانے کے بعد بھی کوئی گرفتاری ہوئی اور نہ بچی بازیاب ہو سکی۔ بچی کے والد اور دیگر رشتیدار دو روز سے بلاول ہاس کراچی کے چکر لگا رہے ہیں۔ گزشتہ روز نندو کے قریب بھی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار موہن کی 14 سالہ بیٹی ہیمی لاپتہ ہو گئی تھی۔ والدین کے مطابق بچی کو اغوا کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس بچی کی ایک بہن ایک سال قبل لاپتہ ہو گئی تھی جس نے بعد میں اسلام قبول کر کے مسلمان لڑکے سے شادی کر لی تھی۔ ایک ماہ قبل شگفتہ لغاری نامی لڑکی ٹنڈوباگو سے لاپتہ ہونے کے بعد پنجاب کے شہر جھنگ میں ظاہر ہونے کے باوجود پولیس اس کو بھی بازیاب کرانے اور واپس لانے میں تاحال ناکام ہے۔ کھوسکی تھانہ کی حدود میں چک آرٹلری سے لاپتہ شادی شدہ سیتا کرشن بھی تاحال بازیاب نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button