سوشل ایشوزفیچرڈ پوسٹ

منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنے کے لئے کہاں تک جانا چاہیے؟ مشورہ سے بھری رپورٹ سامنے آنے کے بعد منافع خوروں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے

قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ جاننے کے لیے جب تین چار روز کی مسلسل کوشش کے بعد ہر تدبیر ناکام ہو گئی ہے

منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنے کے لئے کہاں تک جانا چاہیے؟ مشورہ سے بھری رپورٹ سامنے آنے کے بعد منافع خوروں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک سال قبل جنوبی پنجاب کے ایک بڑے شہر میں ڈپٹی کمشنر کے منصب پر فائز رہنے والے افسر نے اس بیان کے بعد جو کہانی بیان کی، وہ کسی جاسوسی کہانی کی طرح دلچسپ اور پیچیدہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ جاننے کے لیے جب تین چار روز کی مسلسل کوشش کے بعد ہر تدبیر ناکام ہو گئی تو ایک صبح ساڑھے چار بجے انھوں نے اپنے عملے کے ایک با اعتماد اہلکار کو ساتھ لیا اور مرکزی سبزی منڈی جا پہنچے اور خاموشی کے ساتھ کاروباری طور طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق بظاہر سارا عمل شفاف اور کاروباری اصولوں کے مطابق تھا، صبح کاذب دن کی چمکدار روشنی میں بدل چکی تھی لیکن مسئلے کا کوئی سرا ابھی تک ہاتھ میں نہیں آ سکا تھا۔ انھیں ایسا لگتا تھا کہ ان کی یہ کوشش بھی ناکام جائے گی کہ عین مایوسی کی اس کیفیت میں روشنی کی ایک کرن چمکی۔ انھیں ایک شخص ملا جو کوئی مزدور ہی لگتا تھا اور بظاہر اتفاقا ان سے ٹکرایا۔ بہ بتاتے ہیں کہ ٹکراتے وقت وہ شخص کچھ بڑبڑا بھی رہا تھا، وہ مقامی سرائیکی لہجے میں کہہ رہا تھا: منافع خوری دا راز سمجھنڑاں اے تے پہلے کولڈ سٹوریج دا مالک لبھو سائیں یعنی منافع خوری کا راز سمجھنا ہے تو کولڈ سٹوریج کا مالک تلاش کرو بابو جی۔ اس شخص کا یہ جملہ میرے کانوں میں پڑا تو جیسے گھپ اندھیرے میں امید کا دیا جل اٹھا اور میں ایک نئی امید اور عزم کے ساتھ منڈی سے لوٹا۔

سابق ڈی سی او نے کسی قدر جوش کے ساتھ یہ بات کہی اور بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے اپنے ایک انتہائی قابل اعتماد معاون کے ذمے لگایا کہ وہ شہر کے کولڈ سٹوریج کی تفصیلات اور ان کے مالکوں کے کوائف جمع کرے۔ تین چار روز کی محنت کے بعد پتہ یہ چلا کہ شہر میں 16 کولڈ سٹوریج تھے۔ یہ تمام کے تمام سٹوریج مقامی ایم این اے کے اپنے تھے یا اس کے رشتے داروں کے۔ خود مارکیٹ کمیٹی کا چیئرمین بھی ان میں سے چند ایک کا مالک تھا۔ وہ بتاتے ہیں یوں اپنے کیرئیر میں پہلی بار منڈی کی ایک اور جہت میرے سامنے آئی اور میں نے اگلا قدم ان سٹوریجز پر چھاپے کی صورت میں اٹھایا، اس کے بعد ہم لوگوں پر کیا بیتی، یہ ایک الگ داستان ہے لیکن کامیابی نے ہمارے قدم چومے۔ سابق ڈی سی او دعوی کرتے ہیں کہ اس کارروائی کے بعد لیموں کی قیمت کم ہو کر نصف رہ گئی اور کیلا ساٹھ روپے فی درجن پر بکنے لگا اور اس کے بعد آنے والے دنوں میں قیمتیں بڑی حد تک اعتدال پر رہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.