سوشل ایشوزفیچرڈ پوسٹ

نوجوان لڑکی کی شرمناک تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والا کون تھا؟ ملوث کردار کا نام سامنے آنے پر لوگ حیرت زدہ رہ گئے

لڑکی کے رشتے سے انکار پر ملزم ان کے والدین اور رشتہ داروں کو بلیک میل کر رہا تھا اور ان پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ شادی پر راضی ہوجائیں

نوجوان لڑکی کی شرمناک تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والا کون تھا؟ ملوث کردار کا نام سامنے آنے پر لوگ حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں چائلڈ پورنوگرافی یعنی بچوں کی فحش اور نازیبا تصاویر اور ویڈیوز کے حوالے سے سائبر کرائم کے کسی مقدمے میں یہ پہلی سزا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے ملزم ان نازیبا ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے لڑکی کے والدین کو بلیک میل کر رہا تھا۔ خیال رہے کہ لڑکی کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گذشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزم کے خلاف جوڈیشل مجسٹریٹ احترام الحق کی عدالت میں مقدمے کا چالان دائر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے منگل کو مقدمے پر فیصلہ سنا دیا۔

سزا پانے والے ملزم علاالدین کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ سے ہے۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر اسرار اللہ تاج نے بتایا کہ ملزم نے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والی ایک 15 برس کی لڑکی کی نازیبا تصاویر کو فیس بک میسینجر پر شیئر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے والد کی شکایت پر ملزم کے خلاف 21 ستمبر 2020 کو مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ 2016 کے سائبر کرائم ایکٹ جسے پیکا ایکٹ بھی کہتے ہیں کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی اے کوئٹہ کی سائبر کرائم ونگ میں درج کیا گیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم ٹیکسی ڈرائیور تھا اور اسے کوئٹہ کے ٹیکسی سٹینڈ سے گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکی کی جن تصاویر اورویڈیوز کو ملزم نے فیس بک میسینجر پر شیئر کیا تھا وہ ملزم کے موبائل فون میں بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے وائرل کی گئی تصاویر کے بارے میں سب بتایا کہ وہ کہاں کہاں اور کس کس سے شیئر کی گئی تھیں۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے بتایا کہ ملزم یہ تصاویر جن لوگوں کو بھیجتا تھا ان میں لڑکی کے بھائی اور ماموں بھی شامل تھے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ملزم اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والدین اور دیگر رشتے دار اس کے لیے راضی نہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ لڑکی کے رشتہ داروں نے ملزم کو منع کیا تھا کہ وہ ان تصاویر کو دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر نہ کرے کیونکہ یہ ان کی عزت کا مسئلہ ہے لیکن ملزم نے ان کی بات نہیں مانی جس پر لڑکی کے والد نے بالاخر ملزم کے خلاف ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ سے رجوع کیا۔ انھوں نے بتایا کہ لڑکی کے والدین ملزم سے لڑکی کی شادی پر اس لیے راضی نہیں تھے کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کے بچے بھی تھے۔ لڑکی کے رشتے سے انکار پر ملزم ان کے والدین اور رشتہ داروں کو بلیک میل کر رہا تھا اور ان پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ کسی طرح وہ ان کے ساتھ لڑکی کی شادی پر راضی ہوجائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.