کھیل

یونس خان نے قومی ٹیم میں تجربہ کار سینئر کی موجودگی کی حمایت کر دی

نئے کھلاڑیوں کی باتیں تو سب ہی کرتے ہیں لیکن کیا گارنٹی ہے کہ نیا کھلاڑی بھی فیل نہیں ہوگا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ یونس خان نے ٹیم میں تجربہ کار سینئرز کی موجودگی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں کمبی نیشن سینئر اور جونیئر سے بنتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یونس خان نے کہا کہ ان کے دور میں بھی ایسی باتیں ہوتی تھیں کہ فلاں کھلاڑی کی عمر زیادہ ہوگئی ہے، اگر ایک کھلاڑی تجربہ کار ہے، وہ فٹ ہے اور اسکور بھی کررہا ہے تو اس کو کوئی کیوں ڈراپ کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر جوان خون کی شمولیت کے حق میں ہیں لیکن ٹیم کمبی نیشن سینئر اور جونیئرز پر مشتمل ہونا چاہیے، نئے کھلاڑیوں کی باتیں تو سب ہی کرتے ہیں لیکن کیا گارنٹی ہے کہ نیا کھلاڑی بھی فیل نہیں ہوگا۔

یونس خان نے اسد شفیق کی بھی حمایت کی اور کہا کہ کبھی کھلاڑی انڈر پریشر ہوتا ہے اور اس کو ایک اننگ درکار ہوتی ہے جس کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجاتا، اسد کے پاس موقع تھا کہ مانچسٹر میں دوسری اننگز میں ایسی اننگز کھیل جاتا لیکن بدقسمتی سے وہ رن آٹ ہوگیا، وہ اچھا اور تجربہ کار بیٹسمین ہے، امید ہے جلد ری کور کرجائے گا۔ اظہر علی کی فارم میں واپسی پر سابق کپتان نے کہا کہ انہوں نے اظہر علی کی موجودہ اور سابقہ ویڈیوز دیکھ کر موازنہ کیا اور پھر ان کے ٹاپ ہینڈ پر کام کیا جس کی وجہ سے ان کا بیٹ سیدھا موو ہوا اور ان کی کارکردگی میں فرق آیا۔

یونس خان کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کی تکنیک پر نہیں صرف حکمت عملی پر کام کیا جاسکتا ہے اور وہ انہوں نے بھرپور لگن کے ساتھ کیا، اگر موقع ملا تو وہ اس عہدے پر کام جاری رکھنا چاہیں گے۔ دورہ انگلینڈ کے حوالے سے گفتگو میں یونس خان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بھی یہ دورہ کافی کچھ سیکھنے کا موقع تھا، اس دورے میں بہت کچھ مثبت باتیں تھیں لیکن سب سے زیادہ مثبت بات محمد رضوان کی کارکردگی تھی جس پر وہ بے حد خوش ہیں کیوں کہ انگلینڈ میں کسی وکٹ کیپر بیٹسمین کی ایسی کارکردگی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کے لیے طویل مدت کی کرکٹ بہت ضروری ہے، ٹی ٹوئنٹی میں پیسہ ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ زندگی کا اصول ہے جس کے ہر سیشن آپ کو زندگی کے اتار چڑھاؤ سکھاتے ہیں، ان کا کھیل بھی اس وقت بہتر ہوا جب آسٹریلیا جاکر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی، پلیئرز کو یہی مشورہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے ساتھ ساتھ باہر فرسٹ کلاس کرکٹ کو بھی ترجیح دیں۔ سابق کپتان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم سمیت ہر نوجوان کپتان کو یہی مشورہ ہے وہ اپنے فیصلے خود کریں، غلطی سے ڈریں مت کیوں کہ غلطی ہوگی تو اس سے سیکھنے کو بھی ملے گا اور کبھی کبھار خلوص نیت سے ہونے والے غلط فیصلے بھی اچھے نتائج مہیا کردیتے ہیں۔

Back to top button