کھیل

کرکٹ بورڈمیں نوکری کیسےملےگی؟،عاقب جاوید نےنسخہ بتا دیا

سابق ٹیسٹ کرکٹرکہتےہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پرجوتنقیدکرتا ہے،اسے نوکری دے دی جاتی ہے

سابق ٹیسٹ کرکٹرعاقب جاوید کہتےہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پرجوتنقید کرتا ہے، اسے نوکری دے دی جاتی ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ جاوید میاں داد نے کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کی تو ان کے بھانجے فیصل اقبال کو بلوچستان ٹیم کا ہیڈ کوچ لگا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر گل پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے ساتھ ڈومیسٹک ٹیم کا بھی حصہ ہیں، فیصل اقبال اور عمران فرحت کا ایک ساتھ ڈیبیو ہوا، اب ایک بلوچستان کا کوچ اور دوسرا کھیل رہا ہے۔

سابق کرکٹر نے سوال اٹھایا کہ عمر گل، عمران فرحت، محمد طلحہٰ اور عمران خان ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر پاکستان کو کیا فائدہ دیں گے؟ پی ایس ایل میں پرفارمنس دینے والے کھلاڑیوں کو آپ نے سیکنڈ الیون میں شامل کر لیا ہے، ان کرکٹرز کو پہلی ترجیح دیں جو مستقبل میں پاکستان ٹیم میں شامل ہونے کے امیدوار بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل اور فرنچائز کا نام اس لیے لینا پڑتا ہے کہ انہوں نے کھلاڑیوں کو شناخت دی، مصباح الحق کہتے ہیں کہ کوچز کی تعیناتی میں مشاورت نہیں کی گئی، ایسے میں کام کیسے ہو گا؟ ایک ہی کرکٹ ٹیم کے ساتھ بڑے بڑے کوچز چپکانے سے بہتر ہے کہ دو، دو کوچز اوپر سے نیچے انڈر 16 تک لگائیں۔

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ٹور ختم ہوتا ہے تو کوئی کرکٹ کوچ آسٹریلیا چلا جاتا ہے تو کوئی انگلینڈ چلا جاتا ہے، ہائی پرفارمنس سینٹر کے کوچز کیا کام کریں گے؟ کھلاڑی تو اب سب ڈومیسٹک کھیلنے جائیں گے، گزشتہ چار، پانچ سالوں میں ڈومیسٹک کرکٹ کی پرفارمنس سے صرف 10 فیصد کھلاڑیوں کو سیلیکٹ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلیکشن کمیٹی مصباح الحق سے مشاورت کے بغیر بنے گی تو سب ایک پیج پر کیسے ہو سکتے ہیں؟ وقار یونس ڈومیسٹک کے باؤلرز کو نہیں دیکھیں گے تو وائٹ اور ریڈ بال میں کھلانے کا فیصلہ کیسے کریں گے، مصباح الحق پر تنقید کرنے والے سلیکشن کمیٹی میں ہوں گے تو ہم آہنگی بالکل نہیں آ سکتی، مصباح الحق کو وہ کرکٹ ٹیم دینی چاہیے جس پر وہ اعتماد کر سکیں۔

Back to top button