کھیل

وزیراعظم نے پاکستان کرکٹ کی بہتری کیلئے بڑا فیصلہ سنا دیا‘ سب حیران رہ گئے

ملاقات کرنے والے تین سابق کپتانوں میں وسیم اکرم، مصباح الحق اور محمد حفیظ کے ہمراہ موجودہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی بھی شامل ہیں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے پاکستان کرکٹ کے اہم معاملات پر چیئرمین کرکٹ بورڈ (پی سی بی)احسان مانی، چیف ایگزیکٹو وسیم خان، تین سابق اور ایک موجودہ کپتان ملاقات کر یں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان جو پی سی بی کے پیٹرن انچیف بھی ہیں، ان سے ملاقات کرنے والے تین سابق کپتانوں میں وسیم اکرم، مصباح الحق اور محمد حفیظ کے ہمراہ موجودہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی بھی شامل ہیں۔ ملاقات کے لیے ٹی 20 کرکٹ میں 2000 ہزار رنز اور 50 وکٹ لینے والے محمد حفیظ نے خصوصی درخواست کی تھی، محمد حفیظ ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹ کرکٹ کے ختم ہونے اور کرکٹرز کے روزگار کے لیے اہم گفتگو وزیر اعظم عمران خان سے کریں گے۔

محمد حفیظ اور سابق کرکٹرز کی یہ ملاقات کووڈ 19 اور دورہ انگلینڈ کے سبب دو ماہ قبل ہوتے ہوتے رہ گئی تھی، محمد حفیظ کے ہمراہ ملاقات میں شریک قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی اور ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق اب بھی سوئی ناردن گیس کے ساتھ منسلک ہیں۔ لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا حصہ ہیں، وہ آج بھی پی آئی اے کے ساتھ ہیں۔

احسان مانی کے چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد پاکستان فرسٹ کلاس کرکٹ سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو بند کرکے 6 ٹیموں کا فرسٹ کلاس نظام متعارف کروایا گیا تھا جس پر گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے خزانے سے لگ بھگ ایک ارب سے زائد کی رقم خرچ ہوگی۔ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں محمد حفیظ ساتھی کرکٹرز کے ہمراہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ بند ہونے کے سبب کرکٹرز کو روزگار کے حوالے سے پیش آنیوالی مشکلات اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے خلاف ہیں اور ان کا مقف ہے کہ اداروں کے بجائے ریجنز کی ٹیمیں ہونی چاہئیں اس سے مقابلے کی فضا بنتی ہے۔ اس سے قبل وزارت عظمی کا عہدے سنبھالنے کے بعد اگست 2018 میں بھی ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں نے وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں مرحوم عبدالقادر نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت میں کھل کر بات کی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان ان کی باتوں سے متفق نہیں تھے۔

Back to top button