کھیل

وقار یونس کو ٹیسٹ کرکٹرز کی تلاش کیوں؟

بولنگ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کہنا ہےکہ نوجوان کرکٹرزکا سینئرزکوچیلنج کرنا خوش ائند ہے

بولنگ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم وقاریونس کا کہنا ہےکہ نوجوان کرکٹرزکا سینئرزکوچیلنج کرنا خوش ائند ہے۔  وقاریونس کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ نوجوانوں کوموقع دیا جا رہا ہےاوروہ ٹیموں کا حصہ بن رہےہیں لیکن حقیقت یہ ہےکہ ابھی ہمیں ٹیسٹ کرکٹ کےلیےکھلاڑیوں کی تلاش کی ضرورت ہے، ابھی ڈومیسٹک کرکٹ شروع ہورہی ہےتومجھےامید ہےکہ اس پرسب سلیکٹرزاورکوچز کی نظریں ہوں گی اورکھلاڑی تلاش کریں گے، وائٹ بال کی نسبت ٹیسٹ کرکڑمیں ہمیں محنت کرنی ہے۔

‏وقاریونس نےکہا کہ وائٹ بال کرکٹ میں بہت بولرزسامنےآئےہیں، بیٹسمین بھی ہیں،حیدرعلی کوموقع ملا،اسی طرح بولروں میں تومقابلہ ہے ہی، انہیں موقع بھی دیا جا رہا ہے،شاہین آفریدی سمیت کسی بولرکواوورلوڈ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ شاہین تینوں فارمیٹ کھیل رہے ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نےزیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، میں توسمجھتا ہوں کہ ہمارے کھلاڑیوں نےکم کرکٹ کھیلی ہے، انہیں مزید کرکٹ کھیلنےکی ضرورت ہے،جب مشکل ہوگی اوران پر لوڈ بڑھے گا تو مضبوط ہوں گے اور اسی مضبوطی سے ان کی فٹنس میں بہتری آئے گی۔

قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ اس وقت ہمارے بولرز کیونکہ انڈر 19 سے آئے ہیں اور تجربہ بھی کم ہے، کرکٹ کم کھیلے ہوئے ہیں تو وہ فٹنس میں تھوڑے پیچھے ہیں، انہیں فٹنس پر کام کرنا ہے اور خود کو مضبوط کرنا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ حارث روؤف بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکتے ہیں، بس انہیں فٹنس کو بہتر بنانا ہے۔ ‏وقار یونس نے کہا کہ میں تو چاہوں گا کہ نیوزی لینڈ جانے سے قبل کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اور لمبی طرز کی کرکٹ کے عادی ہوں تاکہ نیوزی لینڈ میں انہیں آسانی ہو۔

‏قومی ٹیم کے بولنگ کوچ نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کا سینئرز کو چیلنج کرنا خوش ائند ہے، نوجوان کرکٹرز کے چیلنج کرنے سے سینئرز کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے، اور تجربہ کار کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں اچھا کھیلا۔ انہوں نے کہا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر ہمارے لیے اثاثہ ہیں، یہ نہیں ہے کہ صرف نوجوانوں کو ہی کھلانا ہے، تجربہ کار سینئرز کو بھی ساتھ رکھنا ہے، انہیں بھی موقع دینا ہے، جونئیرز اور سنئیرز کے امتزاج کو برقرار رکھنا ہے۔ وقار یونس نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ابھی ایک برس ہے، امید ہے کہ کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Back to top button