کھیل

کرشمہ علی کادھمکیوں کےباوجود فٹبال کا سفرجاری رکھنےکا اعلان

کرشمہ علی کا کہنا ہےکہ ماضی میں جان سےماردینےکی دھمکیوں کےباوجود فٹ بال کا سفر جاری رکھا

پاکستان کے شمالی علاقہ جات چترال سے تعلق رکھنے والی معروف فٹبالر اور چترال ویمن اسپورٹس کلب کی بانی کرشمہ علی کا کہنا ہے کہ ماضی میں جان سے مار دینے کی دھمکیوں کے باوجود فٹ بال کا سفر جاری رکھا، والد نے اُس وقت میری ہمت بڑھائی اور آگنے بڑھنے کا کہا۔ پاکستان کی معروف فٹبالر کرشمہ علی نے غیرملکی میڈیا کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا ہے کہ ’چترال میں لڑکیوں کے لیے گھر سے نکلنا اور اپنے پسند کے کیریئر کا انتخاب کرنا مشکل ہے، سوشل میڈیا پر اُنہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔ چترال ویمن اسپورٹس کلب کی بانی کرشمہ علی نے بتایا کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے عارضی طور پر بند کیا جانے والا ’چترال ویمن اسپورٹس کلب‘ ایک بار پھر کھول دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ لڑکیوں کے لیے جَلد اس کلب میں فٹبال سیکھانے اور کھیلنے سے متعلق مواقع فرہم کیئے جائیں گے اور اس سے متعلق ایک پروگرام اسلام آباد میں بھی منعقد کیا جائے گا۔‘ بین الاقوامی جریدے فوربیز کی جانب سے 2019ء میں فٹبال کے میدان میں گراں قدر خدمات پر کرشمہ علی کو ایشیاء کی ٹاپ تھرٹی اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ کی انڈر تھرٹی شخصیات کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ اُن لڑکیوں اور خواتین میں تبدیلی لانا چاہتی ہیں جو گھریلو خاتون بننے سے ہٹ کر کوئی پیشہ اپنانا چاہتی ہیں اور اپنے خواہش کے مطابق گھر سے باہر نکل کر کچھ بننا چاہتی ہیں۔‘

کرشمہ علی کا اپنے والد سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’وہ اپنے والد کی وجہ سے اپنے علاقے کی دوسری خواتین سے مختلف ہیں، اُن کے والد نے انہیں خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی اجازت دی، والد نے اُنہیں تعلیم دلوائی، وہ اُن کے ساتھ فٹبال کھیلتے اور دیکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ جب محض 8 سال کی تھیں تو سوچا کرتی تھیں کہ معاشرے میں کچھ بھی صحیح نہیں ہو رہا ہے، خواتین کو صرف مخصوص کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، کچھ شعبوں کو خواہش ہونے پر بھی خواتین اپنا نہیں سکتیں، وہ سمجھتی ہیں کہ بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں اگر خواتین کو مواقع فراہم کیئے جائیں تو وہ خود کو منوا سکتی ہیں۔‘

ماضی سے متعلق بات کرتے ہوئے کرشمہ خان نے بتایا کہ2016ء تک انہوں نے سوشل میڈیا پر کبھی کوئی پوسٹ نہیں کی تھی، انہوں نے کبھی لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ وہ فٹ بال کھیلتی ہیں، جب وہ پہلی بار انٹرنیشنل گیمز کے لیے منتخب ہوئیں تو اُنہوں نے ایک پوسٹ دیکھی جس کی ہیڈ لائن کچھ یوں تھی کہ ’کرشمہ علی بین الاقوامی سطح پر فٹبال کھیلنے والی چترال کی پہلی لڑکی ہے۔‘ اس وقت انہیں دھمکیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا اور چترال کے کچھ مردوں کو معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد میں فٹ بال کھیل رہی ہیں، اُنہیں پیغامات موصول ہوئے کہ اگر انہوں نے یہ کام جاری ر کھا تو انہیں چترال واپس آنے پر مار دیا جائے گا یا اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی، ایسے میں والد نے ہمت بڑھائی اور آگے بڑھنے کا کہا۔

Back to top button