کھیل

اسکواش پلئیرمدینہ ظفر نےکھلاڑیوں کی مشکلات سے پردہ اُٹھا دیا

انٹرنیشنل اسکواش پلئیرمدینہ ظفرکا کہنا ہےکہ کوویڈ 19 کی وجہ سےکھلاڑی مشکلات سےدوچارہورہے ہیں

انٹرنیشنل اسکواش پلئیرمدینہ ظفرکا کہنا ہےکہ کوویڈ 19 کی وجہ سےکھلاڑی مشکلات سےدوچارہورہے ہیں۔ بعض ڈیپارٹمنٹس نےکھلاڑیوں سےتوجہ ہٹالی ہےجس کی وجہ سےکھلاڑی جسمانی اورمالی مسائل سےدوچارہورہےہیں۔ ‏انٹر نیشنل اسکواش پلئیرمدینہ طفرنےگزشتہ ہفتے لاہورمیں ٹاپ سیڈ آمنہ فیاض کوشکست دے کرپی ایس اے رینکنگ اسکواش تورنامنٹ جیتا، وہ اس ٹورنامنٹ میں سیکنڈ سیڈ تھیں۔

‏ مدینہ ظفرکا کہنا ہےکہ دوسرے شعبوں کی طرح کھیل میں بھی کوویڈ 19 کےگزشتہ 8 ماہ کھلاڑیوں کےلیےاچھےنہیں رہےہیں۔ کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے اوراس کی وجہ یہ ہےبعض ڈیپارٹمنٹس نےکھلاڑیوں سےتوجہ ہٹا لی ہے،ان کی سرپرستی نہیں کی جا رہی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ کھیل کی سرگرمیاں نہیں ہورہیں توایسےمیں کچھ ڈیپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں کو اسپورٹ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے کھلاڑی مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی مشکل کا سامنا کررہے ہیں۔ ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ فٹنس مسائل سے دوچار ہورہے ہیں اورٹورنامنٹس نہیں کھیل پا رہے۔

کوویڈ 19کی وجہ سے کھلاڑی جسمانی اور مالی مسائل سے دو چار ہو رہے ہیں، مدینہ ظفر

 

‏ مدینہ ظفر کا کہنا ہے کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ آرمی نے کووویڈ 19 کے دوران بہت اسپورٹ کیا ہے۔ انہیں ہر طرح کی سہولت حاصل رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مکمل فٹ ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر رہی ہیں۔ ‏مدینہ ظفر کا ماننا ہے کہ اسکواش ایسا کھیل ہے جو کورونا وائرس کے دوران کھیلا جا سکتا ہے، تھوڑی بہت احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں یہ کھیل کونٹیکٹ والا نہیں ہے، صرف ہاتھ ملانا ہوتا ہے اور اس کی احتیاط کی جا سکتی ہے۔ کورٹ کے علاوہ ماسک پہنیں اور ہاتھ دھوئیں، کونٹیکٹ اسپورٹس نہ ہونے کی وجہ سے ہی ایس اے ایونٹس کرا رہا ہے۔ اس لیے اسکواش میں احتیاطی تدابیر کا خیال رکھ کر اسے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

‏ مدینہ ظفر کہتی ہیں کہ ان کی انٹر نیشنل رینکنگ 75 رہی ہے لیکن پھر ایونٹس کا سلسلہ رُک گیا۔ اب دوبارہ سے رینکنگ ٹورنامننٹس کا آغاز ہو گیا ہے تو ان کا ٹارگٹ ہے کہ وہ جلد ٹاپ 50 میں جگہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جونہی پی ایس اے کے ایونٹس بڑھیں گے میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گی، آئندہ ہونے والی کامن ویلتھ گیمز اور ایشین گیمز میں بھی ملک کے لیے میڈل جیتنا چاہتی ہوں۔

Back to top button