کھیل

گرین کیپس کےپاس 17 سال بعد موقع مل گیا مگر؟

میزبان ٹیم میچ ڈرا کرنے کی صورت میں بھی 17سال بعد پروٹیز کیخلاف سیریز جیتنے کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی

گرین کیپس کو 17 سال پرانی پیاس بجھانےکا موقع مل گیا جب کہ اکتوبر 2003میں پہلی اورآخری بارجنوبی افریقہ کوسیریزمیں زیرکرنے والی ٹیم راولپنڈی ٹیسٹ ڈرا کرکےبھی مقصد حاصل کرلےگی۔ پاکستان اورجنوبی افریقہ کی ٹیمیں جمعرات سے راولپنڈی میں دوسرے ٹیسٹ میں مقابل ہوں گی،کراچی ٹیسٹ میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے فتح کے ساتھ برتری حاصل کرنے والی میزبان ٹیم میچ ڈرا کرنے کی صورت میں بھی 17سال بعد پروٹیز کیخلاف سیریز جیتنے کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی،دونوں ملکوں کے مابین ابھی تک11سیریز کھیلی گئی ہیں،ان میں سے جنوبی افریقہ نے 7میں برتری ثابت کی،3ڈرا ہوئیں، پاکستان نے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی۔

جنوری1995سے دسمبر 2002تک 4باہمی سیریز میں سے پروٹیز نے 3جیتیں، ایک ڈرا ہوئی، اکتوبر 2003کی ہوم سیریز میں پاکستان نے پہلی اور آخری بار1-0 سے فتح پائی، لاہور میں میزبان ٹیم کی فتح کے بعد فیصل آباد ٹیسٹ ڈرا ہوگیا تھا،جنوری 2007 میں گرین کیپس دورہ جنوبی افریقہ کے ایک میچ میں سرخرو ہوئے،2 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اسی سال اکتوبر میں پروٹیز پاکستان آئے تو کراچی ٹیسٹ جیتا، لاہور میں میچ ڈرا ہوگیا۔

نومبر 2010 میں جنوبی افریقی ٹیم یو اے ای آئی،دونوں ٹیسٹ ڈرا ہوگئے،فروری 2013میں پاکستان ٹیم کو 3-0 سے کلین سوئپ کی خفت اٹھانا پڑی،اکتوبر 2013 میں سیریز 1-1سے برابر ہوئی، دسمبر 2017، جنوری 2018میں گرین کیپس جنوبی افریقہ میں تینوں میچ ہارگئے تھے۔ راولپنڈی میں پاکستان کے پاس نہ صرف دوسری سیریز جیتنے بلکہ پہلی بار کلین سوئپ کرنے کا بھی موقع ہوگا،طویل عرصے بعد پروٹیز کو زیر کرنے کا عزم لیے میدان میں اترنے والی میزبان ٹیم کا راولپنڈی کی کنڈیشنز کیلیے کمبی نیشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی اسپن کے جال سے پروٹیز کا بچ نکلنا محال ہوگیا تھا، راولپنڈی میں پیس بیٹری زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتی ہے،گذشتہ 5سال میں وہاں کھیلے جانے والے فرسٹ کلاس میچز میں پیسرز نے 21.40کی اوسط سے 498وکٹیں حاصل کیں جبکہ اسپنرز 34.18کی ایوریج سے 72شکار کر پائے، آخری ٹیسٹ گذشتہ سال فروری میں کھیلا گیا۔

پاکستان نے بنگلادیش کیخلاف 3 پیسرز اور ایک اسپنر کو میدان میں اتارا، شاہین شاہ آفریدی،نسیم شاہ نے 5،5، محمد عباس نے 3شکار کیے، پہلی اننگز میں پارٹ ٹائم بولر حارث سہیل نے 2اور دوسری میں یاسر شاہ نے 4 وکٹیں لی تھیں، ایک بیٹسمین رن آؤٹ ہوا، اس بار بھی میزبان پلیئنگ الیون میں شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کے ساتھ تیسرے پیسر کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ڈیبیو میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نعمان علی کو باہر بٹھایا جا سکتا ہے۔

حارث نے گذشتہ روز ٹریننگ سیشن میں طویل اسپیل کیے، اس دوران بولنگ کوچ وقار یونس نے ان پر خصوصی توجہ دی، شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی بھی ردھم میں نظر آئے، پیر کی بانسبت سردی زیادہ ہونے کے باوجود 3گھنٹے کی ٹریننگ میں کھلاڑیوں نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا، ابتدا میں بادلوں کی وجہ سے روشنی کم ہونے پر فلڈلائٹس کا سہارا لیا گیا،25منٹ بعد دھوپ نکل آئی تو لائٹس بند کردی گئیں۔

تمام میزبان بیٹسمینوں نے پہلے فاسٹ اور پھر سلو پچ پر اپنا فٹ ورک بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھی، سب سے طویل سیشن بابر اعظم اور محمد رضوان نے کیے،ٹیل اینڈرز کو بھی نیٹ پر اچھی بیٹنگ پریکٹس کا موقع دیا گیا۔ جنوبی افریقی ٹیم کے کوچ مارک باؤچر بیٹسمینوں کی رہنمائی کرتے رہے، انجری کے باعث کراچی ٹیسٹ نہ کھیل پانے والے تبریز شمسی نے بھرپور پریکٹس سے لہوگرمایا،ان کی پلیئنگ الیون میں واپسی کا امکان روشن نظر آرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button