کھیل

بابراعظم کے خلاف مقدمہ ملک کیلئےبدنامی بن گیا

لاہورہائی کورٹ نےکرکٹ ٹیم کےکپتان کےخلاف خاتون کےمقدمےکوملک کی بدنامی قراردیا

لاہورہائی کورٹ نےقومی کرکٹ ٹیم کےکپتان بابراعظم کےخلاف خاتون حامیزہ مختارکےمقدمےکوملک کی بدنامی کا باعث قراردیا اور سماعت ایک ماہ کےلیےملتوی کردی۔ لاہورہائی کورٹ کےجسٹس اسجد جاوید گھرال نےقومی کرکٹ ٹیم کےکپتان بابراعظم کی جانب سےان پرمقدمہ دائرکرنےکےحکم کےخلاف دی گئی درخواست پرسماعت کی۔ عدالت نےدرخواست گزارسےکہا کہ پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) مکمل ہونےدیں پھرمقدمہ سن لیں گے۔ جسٹس اسجد جاوید گھرال نےریمارکس میں کہا کہ نجانےاس مقدمےکا فیصلہ کس طرف جائے گا لیکن ملک کی بدنامی ہوگی۔

کپتان بابراعظم کی پرالزامات لگانےوالی حامیزہ مختاربھی عدالت میں پیش ہوئیں۔ لاہورہائی کورٹ نےمقدمےکی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔ لاہورہائی کورٹ نےگزشتہ سماعت میں بابراعظم کےخلاف حامیزہ مختارکی جانب سےدائرمقدمےپرعائد کیےگئےحکم امتناع میں مزید توسیع کردی تھی جبکہ جہاں نصیرآباد پولیس نےعدالتی حکم پررپورٹ بھی پیش کردی تھی۔ بابراعظم کی جانب سےحارث عظمت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےاورمؤقف اپنایا تھا کہ سیشن عدالت نےحقائق کےبرعکس بابراعظم کےخلاف مقدمہ درج کرنےکا حکم دیا۔

انہوں نےاستدعا کی تھی کہ بابراعظم کےخلاف دراج مقدمےکےحکم پرعمل درآمد روکا جائےاورقومی کرکٹ ٹیم کےکپتان بابراعظم کے خلاف دراج مقدمےپرکارروائی غیرقانونی قراردے کرکالعدم قراردیا جائے۔ عدالت نےحامیزہ مختارکے وکیل کوتیاری کےلیےمہلت دیتےہوئے بابراعظم کےخلاف مقدمہ درج کرنےکا سیشن کورٹ کےحکم پرعمل درآمد روکنےکےحکم امتناع میں توسیع کردی تھی۔ یاد رہےکہ گزشتہ ماہ لاہورکی سیشن کورٹ نےنصیرآباد پولیس کوبابراعظم کےخلاف فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 154 کےتحت خاتون کا بیان قلم بند اور قانون کےمطابق کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد نعیم نےحمزہ مختارکےذریعےدائردرخواست کونمٹاتےہوئےمشاہدہ کیا تھا کہ ملزم پراسقاط حمل اورشادی کی جھوٹی یقین دہانی پردھوکا دہی سےجسمانی تعلق جیسےسنگین الزامات عائد کیےگئےہیں،درخواست گزارکی درخواست کوبغورپڑھنےسے بادی النظرمیں قابل سزا جرم کا کمیشن بنایا گیا۔ رپورٹ کےمطابق جج نےنصیرآباد اسٹیشن ہاؤس آفیسرکوہدایت کی تھی کہ وہ خاتون کا بیان فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 154 کےتحت درج کریں اورقانون کے مطابق سختی سےآگےبڑھیں، جج نےیہ بھی مشاہدہ کیا کہ پولیس رپورٹ درخواست کےحقائق سےیکسرمختلف ہے۔

محترمہ حامزہ مختارنےدرخواست میں بابراعظم پر الزامات عائد کیےتھےکہ انہوں نےجنسی تعلقات برقراررکھتےہوئےشادی کےجھوٹے وعدے کیے،انہوں نےیہ بھی الزام لگایا کہ 2015 میں وہ بابراعظم کےبچےکےساتھ حاملہ ہوگئی تھیں لیکن انہیں اسقاط حمل کروانا پڑا تھا۔ کرکٹرکےوکیل نےکہا تھا کہ درخواست گزارنےپہلےبھی یہی الزامات عائد کرنےوالی ایک درخواست واپس لےلی تھی اورمتعلقہ تھانےمیں بیان حلفی جمع کرایا تھا، انہوں نےاسقاط حمل کےالزام کوبھی متنازع قراردیا۔

بعد ازاں 15 جنوری کولاہورہائی کورٹ نےقومی کرکٹ ٹیم کےکپتان بابراعظم کےخلاف مقدمہ درج کرنےکا سیشن کورٹ کا حکم معطل کرتےہوئےمتعلقہ ایس ایچ اوکےساتھ ساتھ درخواست گزارحامزہ مختارسے تحریری جواب طلب کرلیا تھا۔ حارث عظمت ایڈووکیٹ نےنشاندہی کی تھی کہ سیشن عدالت نےحقائق کےبرعکس بابراعظم کےخلاف اندراج مقدمہ کا حکم دیا ہےاورحامزہ مختارنےبابراعظم کوبلیک میل کرنے کےلیےبے بیناد درخواست دائرکی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button