کھیل

پی ایل ایل:پی سی بی کی کوتاہیوں کا کچا چٹھا کھل گیا

پی ایس ایل فرنچائززکےنمائندوں نے بائیوسیکیورببل کی کوتاہیوں کےبارے میں کمیٹی کوبتایا

پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) 6 کےملتوی ہونےکےبعد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کارروائی جاری ہے۔ پی ایس ایل فرنچائززکےنمائندوں نے بائیوسیکیورببل کی کوتاہیوں کےبارے میں کمیٹی کوبتایا۔ فرنچائززکا خیال ہےکہ مناسب انتظامات کیےجاتےتوپی ایس ایل 6 کوملتوی نہ کرنا پڑتا۔ فیکٹ فائنڈنگ پینل 31 مارچ کوپاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کےچیئرمین احسان مانی کواپنی سفارشات پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل سیزن چھ کو کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد محض 14 میچوں کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔ بائیو سیکیور ببل کے حوالے سے بہت سارے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پی سی بی میڈیکل کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر سہیل سلیم نے ٹورنامنٹ ملتوی ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ پی سی بی نے ایونٹ کے دوران کوتاہیوں کی تحقیقات کے لئے ایک دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ پینل تشکیل دیا تھا جس میں ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔

پینل کے ممبران نے حال ہی میں ایک ہوٹل میں کچھ فرنچائزز کے عہدیداروں سے ملاقات کی جبکہ کچھ ملاقاتیں زوم کے ذریعہ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے فرنچائزز کو بتایا تھا کہ وہ پینل کے ساتھ اپنے تمام خدشات پر کھل کر گفتگو کریں گے۔ پینل کو بتایا گیا کہ پی سی بی نے بنیادی ضروریات کا خیال نہیں رکھا۔ پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض اور ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کو قرنطینہ کی مدت پوری کیے بغیر ہی واپس بائیو سیکیور بلبل میں واپس جانے کی اجازت دی گئی۔

اس نے ایک بری مثال قائم کی۔ کھلاڑیوں کے بہت سارے رشتے دار بھی قرنطینہ کیے بغیربلبل میں رہنے لگے۔ ہوٹل اور گراؤنڈ عملہ اس بلبل کا حصہ نہیں تھا ۔ ٹیموں کے ہوٹل میں شادی کی تقریب جیسی مختلف تقریبات کی گئیں۔ ایک آفیشل نے بتایا کہ انھیں کسی وجہ سے بائیو ببل چھوڑنا پڑا جب وہ واپس آئے تو عام فلور میں آئسولیشن کا کہا گیا، وہ ازخود کمرے میں بند رہے اور کھانا بھی نہ منگوایا تاکہ کسی عام فرد سے سامنا نہ ہو اور پیکٹ والے بسکٹ کھا کر3 دن تک گذارا کیا،ایک فرنچائز کے نمائندے نے کہا کہ بائیو ببل کی کون خلاف ورزی کر رہا ہے یہ جاننا ہمارا کام نہیں پی سی بی کو نظر رکھنی چاہیے تھی،ایک اور ٹیم آفیشل نے بتایا کہ ہم نے ایونٹ سے پہلے بورڈ سے درخواست کی تھی کہ سب کی کورونا ویکسینیشن کرائی جائے مگر کسی نے اس بات کواہمیت نہ دی۔

کچھ عہدیداروں نےیہ بھی بتایا کہ وہ دنیا بھرکی دیگرلیگزکا حصہ رہےہیں اورانہوں نے اپنا پروٹوکول موثراندازمیں قائم کیا تھا تاہم یہ سب کچھ پی ایس ایل 6 کےدوران نہیں کیا گیا تھا۔ یہ سارے بیانات ریکارڈ بھی کیےگئے،فرنچائززسے حقائق جاننےکےساتھ بہتری کیلیےتجاویز بھی لی گئیں۔ پی سی بی فی الحال پی ایس ایل 6 کےبقیہ سیزن میں بائیوسکیورٹی کی ضروریات کےلئےایک برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کررہا ہے۔

سٹیڈیم اور ہوٹل میں مختلف زون بنائے جائیں گے۔ تمام افراد کو ایک الگ نمبر اور ایک ڈیوائس ملے گا جو ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گا۔ کمپنی صرف ڈیٹا کو ٹریک اور فارورڈ کرے گی جس کی نگرانی خود پی سی بی خود کرے گی۔ بورڈ جون کے مہینے میں ملتوی شدہ میچز کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button