کھیل

پاکستان کی خاتون سپورٹس اینکر پرسن زنیب عباس کو عالمی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنا کیا کچھ قربان کرنا پڑا؟ حیران کن رپورٹ سامنے آگئی، سب چونک گئے

انھیں فخر ہے وہ پہلی پاکستانی ہیں جنھیں دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے چینل کیساتھ کام کرنیکا موقع ملا اور وہ اپنے کرئیر میں اس مقام پر پہنچی ہیں

پاکستان کی خاتون سپورٹس اینکر پرسن زنیب عباس کو عالمی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنا کیا کچھ قربان کرنا پڑا؟ حیران کن رپورٹ سامنے آگئی، سب چونک گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق زینب عباس پہلی پاکستانی کرکٹ میزبان ہیں جو رواں سال جولائی میں ہونے والی پاکستان انگلینڈ کرکٹ سیریز کے دوران بین الاقومی کھیل کے چینل سکائی سپورٹس پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ زنیب نے بتایا کہ میں انگلینڈ سے تعلیم حاصل کر کے آئی تھی اور زندگی میں کیا کرنا ہے اس متعلق ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے پتہ چلا کہ ایک چینل کھیل کے پروگرام کی میزبانی کے لیے آڈیشن کر رہا ہے۔ اگرچہ مجھے پچپن سے ہی کرکٹ کا بہت شوق تھا لیکن میں نے کبھی کسی لڑکی کو کھیل کے پروگرام کی میزبانی کرتے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی مجھے یا میرے خاندان میں کسی کو میڈیا کا تجربہ تھا اس لیے میں نہیں جانا چاہتی تھی لیکن میری امی نے بہت اصرار کیا جس کی وجہ سے میں آڈیشن دینے چلی گئی اور وہاں لوگوں کو جب پتہ چلا کہ میں لڑکی ہوتے ہوئے بھی کرکٹ پر وسیع معلومات رکھتی ہوں تو انھوں نے مجھے اس پروگرام کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا۔

زینب کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے وہ پہلی پاکستانی ہیں جنھیں دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے چینل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور وہ اپنے کرئیر میں اس مقام پر پہنچی ہیں جہاں تک پہنچنا بہت سے لوگوں کا خواب ہوتا ہے لیکن زینب کا یہ سفر اتنا بھی سہل نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے یہ سب آسانی سے نہیں ملا مجھے اس کے لیے بہت محنت کرنی پڑی ہے۔ میں نے جب کھیل کی میزبانی کے شعبے میں قدم رکھا تو اس وقت اس میں خواتین نہ ہونے کے برابر تھیں جس کی وجہ سے مجھے متعصبانہ رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اکثر لوگ کہتے تھے کہ یہ لڑکی ہے اس نے تو کبھی کرکٹ نہیں کھیلی اسے کیا معلوم ہو گا گیم کا۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت جاری رکھی۔

زنیب بتاتی ہیں کہ اپنے مہمان کے بات سننے میں کافی دشواری کا سامنا رہتا تھا۔ لیکن پھر انھوں نے اس کا بھی حل تلاش کر لیا اور وہ اپنے مہمانوں کی لپ ریڈنگ یعنی ہونٹوں کی حرکت سے یہ جان لیتی تھیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔شاید بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ زینب ایک کان سے سن نہیں سکتی ہیں۔ حال ہی میں برٹش کانسل کے اشتراک سے منعقد ٹڈ ٹاک میں زینب نے بتایا کہ کیونکہ وہ ایک کان سے نہیں سن سکتی اور دوسرے کان میں ان کے پروڈوسر کی بات سننے کے لیے آلہ لگا ہوتا تھا اس لیے کریئر کے آغاز میں انھیں لگتا تھا کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ زینب کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی تمام کٹھن مراحل اس لیے طے کر لیے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ اپنی توجہ اپنی کھیل کی معلومات بہتر بنانے پر مرکوز رکھی۔

مجھے ماڈلنگ اور ڈراموں میں ایکٹنگ کی متعدد بار پیشکش کی گئی لیکن میں نے یہ تمام پیشکش اس لیے رد کر دیں کیونکہ میں چاہتی تھی کہ لوگ مجھے صرف بطور کرکٹ میزبان جانیں میں اسی کام میں اپنا نام بنانا چاہتی تھی۔ زینب سمجھتی ہیں کہ اب نہ صرف کرکٹ بلکہ دوسرے کھیلوں میں بھی خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب لوگ کا رویہ بھی خواتین کھیلاڑیوں اور میزبانوں کی طرف بدل رہا ہے۔ زینب کا کہنا ہے کہ انھوں نے اکثر دیکھا ہے کہ اس شعبے میں آنے والی اکثر لڑکیاں اپنے میک اپ، لباس اور سٹائل پر زیادہ دھیان دیتی ہیں حالانکہ اس شعبے جو چیز آپ کو نمایاں کرتی ہے وہ آپ کی کھیل سے متعلق معلومات ہے۔ اگر آپ کو اس کھیل کے بارے میں ہی نہیں پتہ تو آپ زیادہ دیر تک لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور ایک نہ ایک دن لوگوں کو اصلیت معلوم ہو جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.