کھیل

پسندناپسند پرٹیم کا انتخاب،عماد وسیم نے سوال اُٹھا دیا

آل راؤنڈر کے مطابق چیف سلیکٹر نے کبھی ڈراپ کرنے کی وجہ نہیں بتائی

عماد وسیم نے پسندناپسند پر ٹیم کا انتخاب ہونے پر سوال اٹھا دیے، آل راؤنڈر کے مطابق چیف سلیکٹر نے کبھی ڈراپ کرنے کی وجہ نہیں بتائی،پوچھنے پر کہا آپ کی موجودگی کے ٹیم پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے،کبھی فٹنس کو جواز بنایا گیا۔

عماد وسیم نے کہا کہ میں ورلڈکپ کے بعد سے پاکستان کیلیے کوئی میچ نہیں کھیل سکا،اس کی وجوہات بھی نہیں جانتا، نہ ہی مجھے کوئی کچھ بتاتا ہے، اگر کبھی بتایا بھی گیا تو میں اس جواز سے مطمئن نہیں ہوں، بہرحال کوئی کچھ بھی کرلے میرے نصیب میں جو بھی ہوا وہ مل کر رہے گا، ہونا تو وہی ہے جو اللہ کو منظور ہے۔

آل راؤنڈر نے کہا کہ چیف سلیکٹر نے کبھی مجھے ڈراپ کرنے کی وجہ نہیں بتائی، ٹیم کا اعلان ہونے پر میں خود ہی سب سے پوچھتا ہوں، مجھے ذرا مختلف طریقے سے ڈیل کیا جا رہا ہے، مجھے کہا گیا تھا کہ آپ کی موجودگی کے ٹیم پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے،میں دنیا بھر میں لیگز کھیل چکا اور پاکستان کا سفیر بن کر جاتا ہوں،کبھی ٹیم تبدیل نہیں کرتا، وہ ہر سال مجھے بلاتے اور قدر کرتے ہیں،اس لیے یہ تاثر تو درست نہیں، کبھی فٹنس مسائل کی بات کردیتے ہیں،میں پاکستان کیلیے دیانتداری اور افتخار کے ساتھ کھیلا ہوں، میری نظر میں عزت سب سے اہم ہے،اس طرح کے جواب ملتے ہیں تو کبھی مایوس بھی ہوجاتا ہوں، اب تو عجیب سا لگتا ہے۔

ایک سوال پر آل راؤنڈر نے کہا کہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ بہت کرکٹ کھیل چکے،وہ کمنٹیٹر بھی رہے اور ہر کھلاڑی کی مہارت، صلاحیت سے واقف ہیں،میں اس سے زیادہ کیا کہوں، مایوسی ہر انسان کو ہوتی ہے، میں انڈر19کرکٹ سے جدوجہد کررہا ہوں اور لوگوں کو غلط ثابت کرتا آیا ہوں،میں ہارماننے والوں میں سے نہیں ہوں،ابھی بوڑھا نہیں ہوا، 33سال کا ہوں، کم بیک کرکے مزید 4یا 5سال کھیلوں گا۔

انھوں نے فٹنس کے حوالے سے کہا کہ ایک معیار طے کرکے اسی کے مطابق چلنا چاہیے، کرکٹ میں کبھی کم فٹ پلیئر زیادہ کھیل جاتے ہیں، کبھی زیادہ فٹ بھی باہر بیٹھ جاتے ہیں،مجھیفٹنس کے جواز نہ پیش کیے جائیں،ہمیشہ سے پہلی ترجیح پاکستان ہی ہے،میں کبھی پیسے کے پیچھے نہیں بھاگا مگر مجھے بھی اپنی روٹی روزی کمانا اور لیگز کھیلنے کیلیے جانا ہے۔

عماد وسیم نے کہا کہ میڈیا کو بھی معلوم ہے کہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں ہر جگہ پسند ناپسند ہوتی ہے،بہتر یہی ہے کہ کھلاڑی کا ماضی دیکھیں، پاکستان کیلیے جو خدمات انجام دیں ان کو نظر میں رکھیں،کچھ لوگ ہوں گے جنھیں میری شکل پسند نہیں،ٹھیک ہے ایسا ہوتا ہے مگر پاکستان ٹیم کی بات ہوتو ملک کا مفاد دیکھنا چاہیے ،ناانصافی پر کھلاڑی کے ساتھ پاکستان ٹیم کا بھی نقصان ہوگا،حکام اپنی طرف سے وضاحتیں نہ دیں، چیزیں درست کرنے کی کوشش کریں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کسی کو نکالنا ہو تو سو طرح کے جواز پیش کیے جاسکتے ہیں،اعدادوشمار اور اسٹرائیک ریٹ سمیت کئی چیزیں میں بھی آپ کو نکال کر دے سکتا ہوں،اگر ٹیم کو آگے لے کر جانا ہے تو پسند ناپسند نہیں ہونا چاہیے،میں کافی عرصے سے کوئی انٹرنینشل میچ نہیں کھیل سکا مگر اب بھی ون ڈے کرکٹ کے ٹاپ 10آل راؤنڈرز میں شامل ہوں، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر ون بھی رہا،میری کوئی کارکردگی تھی تب ہی تو رینکنگ میں رہا، میری پاکستان کیلیے خدمات ہیں، سب کو ہر چیز کا علم ہے، آج میرے ساتھ جو ہورہا ہے وہ کل کسی اور کے ساتھ بھی ہوجائے گا، میں میڈیا میں آکر بحث نہیں کرنا چاہتا، کسی کیلیے غلط نہیں بولوں گا مگر غلط کو غلط ضرور کہوں گا، اب بھی محنت کررہا ہوں اور پاکستان کیلیے کھیلنے کی خواہش ہے اور انشاء اللہ کھیلوں گا، اس انٹرویو کو بھی محفوظ کرلیں،میں اپنا دعوی سچ ثابت کروں گا۔

ٹاپ پرفارمنس کے باجود ون ڈے ٹیم سے باہر کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ ان سے پوچھیں جنھوں نے فیصلہ کیا،میرا کام کرکٹ کھیلنا اور اپنی ٹیم کو میچ جتوانے کی بہترین کوشش کرنا ہے،کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں،راستے اللہ تعالیٰ بنائے گا،میں جب فرنچائز کا کپتان تھا تو تب بھی کراچی، لاہور یا کوئی اور بات نہیں دیکھی،ہمیشہ صرف ٹیم کے مفاد کو ترجیح دی۔

ڈاکٹر نہ بن پانے پر کبھی پچھتاوا نہیں ہوا، اللہ نے کرکٹ کی  بدولت عزت، شہرت اور پیسہ سب کچھ دیا،ملک کیلیے کھیلنے کا فخر ہی الگ ہے،اس ملک سے بڑھ کر میں، بابر اعظم نہ کوئی اور ہے،پاکستان پہلے اور ہم سب بعد میں ہیں،مجھے زندگی میں کبھی میڈیکل کی تعلیم مکمل نہ کرپانے کا کوئی افسوس نہیں ہوا،پاکستان کیلیے کھیلنے سے قبل بھی حوصلہ شکن باتیں سننے کو ملتی تھیں کہ یہ کہاں سے آگیا مگر میں نے اپنا عزم کم نہیں ہونے دیا اورسب کو غلط ثابت کیا،موجودہ صورتحال بھی مجھ کو زیادہ مضبوط اور پْرعزم بنارہی ہے، میں کوشش کروں گا کہ پاکستان کی مزید بہتر انداز میں خدمت کروں۔میں اپنے پرستاروں سے بھی کہتاہوں کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،میں کم بیک کی پوری کوشش کروں۔

عماد وسیم نے کہا ہے کہ اس بار عید فیملی کے ساتھ منانے کا موقع ملنا اچھی بات ہے،والدین، بہن، بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مل کر یہ تہوار منانے کا مزا ہی الگ ہوتا ہے،میں اس موقع پر تمام پاکستانیوں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں،بچپن سے قربانی کا جانور خود جاکر لاتا ہوں،بہت اچھا بھی لگتا ہے،اللہ کی راہ میں قربانی دینا ہوتی ہے تو خود جاکر لانے کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے،تکہ، کباب وغیرہ تو عام طور پر زیادہ کھاتا ہوں،صرف چکنائی سے پرہیز کرنا ہوتا ہے،عید کا دن ہے تو بھرپور لطف اٹھاؤں گا۔

عماد وسیم نے کہا کہ پی ایس ایل فرنچائز کراچی کنگز کی کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ اونرسلمان اقبال نے مشاورت سے کیا تھا، وہ میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں،انھوں نے بات کی اور اعتماد میں لیا،کراچی کنگز کیلیے میری خدمات سے وہ بھی واقف ہیں،میرے لیے بھی عزت کی بات تھی کہ انھوں نے بتایا نہیں بلکہ پوچھا اور مشاورت کی، ابھی اگلے سیزن میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا، مستقبل کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، کراچی کنگز کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ایک سوال پر عماد وسیم نے کہا کہ بابر اعظم میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے،میں نے انھیں گروم ہوتے دیکھا ہے، میری نظر میں تو ان کے ساتھ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے،یقین ہے کہ بابر اعظم بھی یہی بات کریں گے، ہم دونوں میں عزت اور احترام کا رشتہ ہے۔ ہارڈ بال کرکٹ میں رفتار کم ہونے پر اسپن کرنا شروع کردی،میں ٹینس بال سے خاصی تیز بولنگ کرتا تھا، ہارڈ بال سے اسپیڈ نہ ملی تو کسی نے کہا کہ اسپن بولنگ شروع کردو،اس طرح سلو گیندیں کرنے لگا، اسی میں صلاحیتیں بہتر ہوئیں اور کامیابی بھی ملتی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.