کھیل

نواز کی گیند کو نو بال قرار دینے پر پاکستانی شائقین کرکٹ چیخ اٹھے

امپائر نے گیند کو نو بال قرار دے دیا جس کے باعث بھارت کو نہ صرف 7 رنز مل گئے بلکہ فری ہٹ بھی مل گئی جس نے بھارت کی جیت آسان بنادی

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے میں پاکستان اور بھارت کیخلاف کھیلے گئے میچ کے آخری اوورز میں نواز کی گیند کو نو بال قرار دینے پر پاکستانی شائقین چیخ اٹھے۔

تفصیلات کے مطابق میلبرن میں کھیلے گئے ہائی وولٹیج میچ میں حارث رؤف نے19 واں اوور مکمل کیا تو بھارت کو آخری اوور میں 16 رنز درکار تھے اور اس کی 6 وکٹیں باقی تھیں تاہم بھارت نے آخری گیند پر 6 وکٹوں کے نقصان پر ہدف پورا کرلیا۔ آخری اوور انتہائی سنسنی خیز رہا، نواز نے کوہلی کو اوور کی چوتھی گیند فل ٹاس کرائی جس پر کوہلی نے 6 رنز حاصل کرلیے تھے تاہم امپائر نے گیند کو نو بال قرار دے دیا جس کے باعث بھارت کو نہ صرف 7 رنز مل گئے بلکہ فری ہٹ بھی مل گئی جس نے بھارت کی جیت آسان بنادی۔ امپائرکی جانب سے اوور ہائٹ ہونے پرگیند کو نو بال قرار دیا گیا تاہم اس فیصلے سے قومی ٹیم کیکپتان بابر اعظم مطمئن نظر نہیں آئے اور ان کی امپائرز سے بحث بھی ہوئی۔ میچ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی نوبال کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ بال کھیلتے ہوئے کوہلی کا پاں کریز پہ تھا اس لیے یہ نو بال نہیں۔

سابق آسٹریلوی کرکٹر بریڈ ہاگ نے کوہلی کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ نو بال پر ریویو کیوں نہیں لیا گیا؟ اور جب فری ہٹ پر کوہلی بولڈ ہوگئے تھے تو وہ بال ڈیڈ کیوں نہیں قرار دی گئی؟ اپنا تعارف ایک سابق کرکٹر، کرکٹ کوچ اور تجزیہ کار کی حیثیت سے کرانے والے جان برک نے کہا کہ کریز سے باہر پاں ہونے پر کبھی نو بال نہیں ہوتی، ایک سراسر جرم ہے۔ ایک صارف نے اس بال کو نو بال قرار دیے جانے کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا۔ ایک اور صارف نے نواز کی گیند کراتے ہوئے تصویر پوسٹ کی اور کہا کہ آپ نے اچھا کھیلا پر وہ نو بال نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.