کھیل

پاکستان کرکٹ کو بہتری کیلئے آئی سی سی کو کیا کرنا ہو گا؟

پاکستان کرکٹ کا بڑا اسٹیک ہولڈر' اب وہ دوبارہ شروع ہو رہی ہے اس کو فروغ دیا جائے

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم برے دور سے گزر رہی ہے قومی کرکٹ سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا اس حوالے سے اہم رائے سامنے آئی ہے۔پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر محمد ہارون جو انگلش بورڈ کے لیول فور کا کوچنگ کورس مکمل کرنے والے برصغیر کے پہلے کوچ ہیں نیمیڈیاکو اس حوالے سے اپنی اہم رائے دی ہے۔محمد ہارون پاکستان کرکٹ سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے پی سی بی اس کھیل کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کرے اور انگیج کرکے ان کو فعال کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ہے اور اب وہ دوبارہ شروع ہو رہی ہے اس کو فروغ دیا جائے۔ ایسوسی ایشنز کو فعال کرے اور ان کا آئین اس میں رکاوٹ ہے تو اس میں تبدیلیاں لائے کیونکہ منتخب لوگ بہتر فیصلے کرتے ہیں جب کہ تیسرے بڑے اسٹیک ہولڈرز پی ایس ایل کی فرنچائز ہیں۔سابق فرسٹ کلاس کرکٹر نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک رائے یہ بن گئی ہے کہ ٹیم اگر اچھا کرتی ہے تو ٹیلنٹ ہے اور اگر وہی ٹیم برا کرتی ہے تو ٹیلنٹ نہیں اور یہ دونوں باتیں ایک ہی طرح کے لوگ کرتے ہیں۔ ٹیلنٹ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ٹیلنٹ تو آتا رہتا ہے۔ یہ آپ کے سسٹم پر منحصر ہے کہ وہ کیسے اس ٹیلنٹ کی گروتھ کرتا اور اس کو مستقبل کے لیے مفید بناتا ہے۔

محمد ہارون نے کہا کہ ہمارے ماضی میں جو بھی بڑے کرکٹرز رہ چکے ہیں۔ انہیں کوئی سسٹم نہیں لایا بلکہ ان کے پیچھے کوئی ہوتا ہے جیسا کہ سیلف کوچ، کلب کا آدمی، مینٹور، ایسوسی ایشن۔ کوچنگ اسٹاف نے سے کبھی بڑے کرکٹرز نہیں نکلے۔انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہمارے فاسٹ بولر جو ریورس سوئنگ کرتے رہے اور بہت اچھے اسپنرز بھی ہیڈ کوچ رہے لیکن انہوں نے کوئی ایسا بولر نہیں دیا جو ریورس سوئنگ کر سکے۔ موجودہ ٹیم میں آپ جس کو اسپنر کہتے ہیں اس کی تو ایک گیند بھی اسپن نہیں ہوتی۔

محمد ہارون نے کہا کہ ٹیم میں جو غلطیاں ہیں یہ بڑی کامن چیزیں ہیں۔ ان پر فوکس کرنا ہوگا۔ اگر نیت اچھی ہے تو کوئی کام ممکن نہیں، خرابیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اسے دور کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button