ٹیکنا لوجی

ٹک ٹاک نےلاکھوں ویڈیوزکوکھڈے لائن لگا دیا،وجہ کیا تھی؟

عدالت نے 11 مارچ کوٹک ٹاک کوبندکرنےکا حکم دیا تھا،جس کےبعد پی ٹی اے نےایپلی کیشن کو بلاک کردیا تھا

ٹک ٹاک نےلاکھوں ویڈیوزکوکھڈے لائن لگا دیا،وجہ کیا تھی؟ ٹک ٹاک پرنامناسب مواد اوراس کی بندش سےمتعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قیصرراشد خان کی سربراہی میں ہوئی،جس میں پی ٹی اے کےوکیل جہانزیب محسود نےعدالت کوآگاہ کیا کہ پی ٹی اے حکام ٹک ٹاک انتظامیہ سےرابطےمیں ہیں۔ عدالت کوبتایا گیا کہ ٹک ٹاک سے حالیہ دنوں میں اب تک 5 لاکھ ’قابل اعتراض‘ ویڈیوز کو ہٹادی گئی ہیں جب کہ شیئرنگ ایپ انتظامیہ نےپاکستان میں مواد سے متعلق فوکل پرسن کو بھی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ سماعت پی ٹی اے کی جانب سے ٹک ٹاک کو بند کیے جانے کے عدالتی فیصلےسے متعلق دائر کی گئی درخواست پر کی گئی، جسے عدالت نے شیئرنگ ایپ کیس کی سماعت میں ضم کردیا، جس کےآئندہ سماعت اپریل میں ہوگی۔

پی ٹی اے کی درخواست کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی آئندہ سماعت یکم اکتوبر کو مقرر کردی۔ خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 40 مقامی رہائشیوں کی درخواست پر ٹک ٹاک کو 11 مارچ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی اے نے فوری طور پر شیئرنگ ایپ کو ملک میں بند کردیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دینے والے پشاور کے رہائشیوں نے درخواست میں سیکریٹری داخلہ کے ذریعے فیڈریشن آف پاکستان، وزارت قانون و انصاف، چیئرمین پی ٹی اے اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو فریق بنایا تھا۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی نامناسب، فحش اور قابل اعتراض مواد کی وجہ سے ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا جائے۔

مذکورہ درخواست پر عدالت نے 11 مارچ کو ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پی ٹی اے نے ایپلی کیشن کو بلاک کردیا تھا۔ ٹک ٹاک کو بند کیے جانے کے بعد حالیہ دنوں میں اس سے 5 لاکھ ‘قابل اعتراض‘ ویڈیو بھی ہٹادی گئی ہیں جب کہ ایپلی کیشن انتظامیہ نے مواد کی شکایات کو حل کرنے کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کردیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ٹک ٹاک کو اس وقت تک ملک میں بند رکھا جائے جب کہ ایپلی کیشن پر دکھائے جانے والے مواد سے متعلق کوئی باضابطہ نظام نہیں بنایا جاتا اور پاکستان میں کمپنی کسی فوکل پرسن کو تعینات نہیں کرتی۔

عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ اگر ٹک ٹاک پر صرف تفریحی ویڈیوز ڈالی جائے تو ایپلی کیشن کی تعریف کی جائے گی مگر نامناسب اور قابل اعتراض ویڈیوز کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالتی حکم کے بعد گزشتہ 12 دن سے ملک بھر میں ٹک ٹاک بند ہے جب کہ اس سے قبل بھی گزشتہ برس عدالتی احکامات پر مذکورہ ایپ کو بند کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button