ٹیکنا لوجی

سمارٹ فون کیمرا جسم میں کس چیز کو مانیٹر کر سکتا ہے؟ نئی طبی تحقیق میں حیران کن انکشاف

تحقیق میں شامل افراد کی انگلیوں کو سمارٹ فون کیمرے اور فلیش کے اوپر رکھا گیا' یہ کیمرا ایسا الگورتھم استعمال کرتا تھا جو خون میں آکسیجن کی سطح کو جان سکتا تھا

سمارٹ فونز میں موجود کیمرا جسم میں کس چیز کو مانیٹر کرسکتا ہے اس حوالہ سے امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہمارے پھیپھڑے آکسیجن سے بھر جاتے ہیں، جو خون کے سرخ خلیات کی مدد سے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ ہمارے جسم کو اپنے افعال کے لیے بہت زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور صحت مند افراد میں ہر وقت آکسیجن کی کم از کم سطح 95 فیصد ہوتی ہے۔ دمہ یا کووڈ 19 جیسی بیماریوں کے نتیجے میں ہمارے جسم کے لیے پھیپھڑوں میں موجود آکسیجن کو جذب کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں مختلف مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ اسمارٹ فون خون میں موجود آکسیجن کی سطح کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عموما آکسیجن کی سطح کو جاننے کے لیے pulse oximeter استعمال کیے جاتے ہیں جو گھروں میں استعمال کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔ اس تحقیق میں ماہرین نے ایک طریقہ کار تشکیل دیا تاکہ اسمارٹ فون کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ تحقیق میں شامل افراد کی انگلیوں کو اسمارٹ فون کیمرے اور فلیش کے اوپر رکھا گیا۔ یہ کیمرا ایسا الگورتھم استعمال کرتا تھا جو خون میں آکسیجن کی سطح کو جان سکتا تھا۔

تحقیق میں شامل 6 افراد کے جسم میں محققین نے نائٹروجن اور آکسیجن کے مکسچر کو داخل کیا جس سے خون میں آکسیجن کی سطح گھٹ گئی۔ اس موقع پر اسمارٹ فون نے خون میں آکسیجن کی سطح کی درست پیشگوئی کی۔ محققین نے بتایا کہ ہمارے تیار کردہ ٹیسٹ سے ہم ہر رضاکار کا 15 منٹ کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس سے ثابت ہوا کہ اسمارٹ فونز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمارٹ فون تو اب لگ بھگ ہر فرد کے پاس ہوتا ہے اور اس طریقہ کار سے بغیر کسی خرچے کے خون میں آکسیجن کی مقدار کو جاننا ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشین لرننگ ٹیکنالوجی کی معاونت سے بائیو میڈیکل ڈیوائسز کی تیاری کی جانب پہلا قدم ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے ڈیجیٹل میڈیسین میں شائع ہوئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.