ٹیکنا لوجی

بچوں کی پرائیویسی کے تحفظ کو غیر یقینی بنانے پر ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے: آئی سی او کی تحقیقات

برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے ، آئی سی او کی جانب سے نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔ آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.