ٹیکنا لوجی

ٹیلی گرام کے بانی نے واٹس ایپ صارفین کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اگر میٹا کی زیرملکیت ایپ کا استعمال ترک نہ کیا گیا تو صارفین کے فون ہیک ہوسکتے ہیں: بانی ٹیلی گرام پال دروف کا انتباہ

میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے بانی پال دروف نے انتباہ کیا ہے کہ واٹس ایپ نگرانی کا ٹول ثابت ہورہی ہے اور لوگوں کو اس ایپ کا استعمال فوری طور پر ترک کردینا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق ٹیلی گرام کے بانی نے واٹس ایپ کی جانب سے حالیہ سکیورٹی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر میٹا کی زیرملکیت ایپ کا استعمال ترک نہ کیا گیا تو صارفین کے فون ہیک ہوسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ واٹس ایپ نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں بتایا تھا کہ میسجنگ ایپ کو سکیورٹی کمزوریوں کا سامنا ہوا تھا مگر ایک اپ ڈیٹ کے ذریعے اس پر قابو پالیا گیا۔ پال دروف نے خبردار کیا کہ ان سکیورٹی کمزوریوں کے باعث ہیکرز واٹس ایپ کے صارفین کے فونز پر کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک مضمون میں کہا کہ اگر میٹا کی مسیجنگ ایپ آپ کے فون میں انسٹال ہے تو ڈیوائس کے تمام ڈیٹا تک ہیکرز کو رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ لوگ ٹیلی گرام کا استعمال کرنا شروع کردیں مگر واٹس ایپ سے ضرور دور رہیں، جو کہ 13 سال سے نگرانی کا ٹول بنا ہوا ہے۔

ٹیلی گرام کے بانی اس سے قبل بھی کئی بار دعوی کرچکے ہیں کہ واٹس ایپ صارفین کے لیے محفوظ نہیں۔ اس سے قبل ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ جب تک میٹا کی جانب سے واٹس ایپ میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، اس وقت تک وہ صارفین کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ واضح رہے کہ ٹیلی گرام واٹس ایپ کی حریف ایپ ہے جس کے صارفین کی تعداد میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔ ابھی ٹیلی گرام کے صارفین کی تعداد 70 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ واٹس ایپ کو 2 ارب سے زیادہ افراد استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو ایپ موجود ہے وہ میٹا کی ہی زیرملکیت فیس بک میسنجر ہے۔ دوسری جانب میٹا کے ایک ترجمان نے ٹیلی گرام کے بانی کے بیان کو مسترد کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.