سیف اللہ ابڑو اور پی ٹی آئی سینیٹرز کھل کر آمنے سامنے آگئے

اسلام آباد(کھوج نیوز) سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر کھل کر آمنے سامنے آگئے ہیں، یہ کن وجوہات کی بناء پر آمنے سامنے آئے؟ تفصیل سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ علی ظفر لیڈ کرنے کے قابل ہیں ہی نہیں، عون عباس بپی تو کسی پارلیمانی میٹنگ میں تھا ہی نہیں، عون عباس بپی نظر آتا تو کہتا کہ آ کہیں بیٹھتے ہیں کوئی فیصلہ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کمیٹی کے چیئرمین کے لیے میرا نام دیا تھا۔ سیف اللہ ابڑو نے الزام عائد کیا کہ ہمارے بندوں نے حکومتی افراد سے مل کرمجھ سے کمیٹی چیئرمین شپ چھینی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان اور اعظم نذیرتارڑ سے مل کرکمیٹی چیئرمین شپ چھینی گئی، وہ پہلے ہی پاورکمیٹی میں مجھ سے تنگ تھے لہذا مجھے داخلہ کمیٹی نہ ملنے دی، یہ سب کچھ عون عباس اور علی ظفرکی وجہ سے ہوا کہ حکومت سے مل کرہم سیکمیٹی چھینی گئی۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا میں نے بدترین حالات کے باوجود پارٹی سے استعفی نہیں دیا،کون سا پارٹی کا رہنما ہے جو استعفی دے کرگیا اور پھر واپس پارٹی میں آگیا، فواد چوہدری،عمران اسماعیل پارٹی میں واپس نہیں آرہے، عون عباس کیسے آگیا، اب بھی فردوس شمیم نقوی کوشش کر رہا ہے کہ اسد عمر پارٹی میں واپس آجائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی ظفرہمیں احتجاج کا بتائیں گیجو جاکرخود ہی ان کے آفسز میں بیٹھے رہتیہیں، فردوس شمیم نقوی میرے پیچھے پڑے رہیحالانکہ میں زرداری کا مخالف تھا، عون عباس بپی کو پنجاب کا صدر بنایا گیا، وہ 9 مئی کے بعد استعفی دے گیا تھا۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اسد قیصراورپرویزخٹک کی گیم نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ ایک گاڑی میں خود بیٹھ کرگئے، نہ ہی پارٹی نے کوئی لیٹر جاری کیا، نہ ہی مجھے کوئی شوکاز یا خط ملا ہے، یہ سوشل میڈیا کی پارٹی بن گئی ہے، یہ سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں مجھے کچھ نہیں ملا، 10 تاریخ کو ووٹنگ ہوئی، شام کو فردوس شمیم نے کہا ہم نے سینیٹرکو نکال دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا اسد قیصر ہمارا لیڈر ہے،چند دن قبل کہہ رہے تھیکہ سیف اللہ ابڑو نے غداری کی، پرویزخٹک کے ساتھ اسد قیصرخود پریس کانفرنس کرنے کے لیے بیٹھے تھے، اسد قیصرکو ایک سینیٹر ہی پریس کانفرنس کے لیے لائے تھے، وہ سب کچھ جانتے ہیں۔



