فضائی آلودگی سے الزائمر مرض میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟ تحقیق

اسلام آباد(ہیلتھ ڈیسک) دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث الزائمر کے امراض میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے؟ اس حوالے سے ایک نئی طبی تحقیق میں حیران کن انکشاف ہوا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل پلوس میڈیسن میں شائع تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا 2000 سے 2018ء کے درمیان اکٹھا کیا گیا تھا۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ زیادہ فضائی علاقوں سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والوں میں الزائمر امراض کا خطرہ کتنا ہوتا ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فضائی آلودگی میں زیادہ رہنے سے الزائمر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو ماضی میں فالج کا سامنا کرچکے ہوتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی براہ راست الزائمر امراض کا خطرہ بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ فضائی معیار کو بہتر بنانے سے ڈیمینشیا کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ فضائی آلودگی دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔



