بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں زندگی معمول کی طرح چلتی رہتی ہے، مگر ان کی جدائی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اصل زندگی تو وہی تھے۔ باپ کا رشتہ بھی انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔ وہ سایہ جو دھوپ میں اپنی اہمیت ثابت نہیں کرتا مگر سورج ڈھلتے ہی احساس دلا دیتا ہے کہ اب سب کچھ بدل چکا ہے۔
میرے مرحوم والد، حاجی محمد سعید صاحب، 16 دسمبر 2025 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بظاہر یہ ایک تاریخ ہے، ایک دن ہے، مگر میرے لیے یہ وہ لمحہ ہے جس کے بعد وقت رک سا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے ساتھ ہی زندگی کی وہ سادگی، وہ برکت اور وہ تحفظ بھی دفن ہو گیا جسے ہم روزمرہ کی دوڑ میں کبھی پہچان ہی نہ سکے۔
یہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپتے ہیں، اس لیے نہیں کہ الفاظ کم ہیں بلکہ اس لیے کہ میرے والد جیسی عظیم ہستی پر لکھنے کی میری اوقات نہیں۔ میں خود اعتراف کرتا ہوں کہ میں اپنے والدین کا ایک نافرمان اور کوتاہ فہم بیٹا رہا، مگر شاید یہی احساسِ ندامت انسان کو قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
میرے والد کی پیدائش 1959 میں صوبائی دارالحکومت کے نواحی گاں دوگیج میں ہوئی۔ وہ زمانہ جب میٹرک پاس ہونا کسی اعزاز سے کم نہ تھا، انہوں نے اسی حد تک تعلیم حاصل کی۔ مگر اصل تعلیم انہیں کتابوں سے نہیں بلکہ زمین، موسم، محنت اور وقت نے دی۔
میرے والد سات بھائی تھے۔ پانچ بڑے اور ایک چھوٹا۔ یہ محض بھائی نہیں تھے، بلکہ ایک قلعہ تھے، ایک مضبوط دیوار، جو ہر آندھی کے سامنے ڈٹ جاتی تھی۔ مرحوم حاجی محمد نذیر، رشید، حاجی محمد لطیف، محمد بشیر، حاجی محمد ولائت اور سب سے چھوٹے حاجی محمد عنایتیہ ساتوں بھائی مثال تھے اتفاق، قربانی اور بھائی چارے کی۔
جب بنجر زمین کو آباد کیا گیا، جب مٹی سے سونا نکالا گیا، تو اس کے پیچھے جدید مشینری نہیں بلکہ ان بھائیوں کے چھالے پڑے ہاتھ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اردگرد کے گاں میں ان کا نام عزت سے لیا جاتا تھا۔ انہوں نے نہ کسی کا حق مارا، نہ کسی کو دبنے دیا، نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا۔
میرے والد کی شادی میری والدہ، کوثر بی بی، سے ہوئی جو لاہور کے علاقے کرشن نگر سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایک شہری لڑکی کا دیہاتی ماحول میں آنا آسان نہیں ہوتا، مگر میری والدہ نے اسے نبھایا، اور اس طرح نبھایا کہ زندگی خوش اسلوبی سے گزرتی رہی۔
نشیب و فراز آئے، مالی تنگی بھی دیکھی، مگر شکایت کبھی زبان پر نہ آئی۔ میری والدہ کا یہ کردار کہ وہ آخری وقت میں بھی میرے والد سے معافی مانگ کر گئیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف بیوی نہیں بلکہ ایک عظیم ساتھی تھیں۔
میرے والد نے ہم بہن بھائیوں کی تربیت صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے کی۔ انہوں نے ساری زندگی سائیکل پر سفر کیا، کھیتوں میں دن رات کام کیا، مگر ہماری خواہشات کے سامنے کبھی ہاتھ نہیں کھینچا۔
میں آج بھی نہیں بھول سکتا کہ میری والدہ کے کہنے پر وہ میری ہر ضد مان لیتے تھے۔ شاید اسی لیے میں ناسمجھ رہا، شاید اسی محبت نے مجھے بگاڑا بھی، مگر اب سمجھ آتا ہے کہ وہ محبت ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری اور طاقت تھی۔
انہوں نے مجھے کھیتوں میں کام پر مجبور نہیں کیا، حالانکہ وہ چاہتے تو کر سکتے تھے۔ ان کا خواب تھا کہ میرا بیٹا قلم پکڑے، دفتر میں بیٹھے، عزت کی زندگی گزارے۔ آج جب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں نے ان کے خواب کی قدر کم کی۔
میری والدہ کے انتقال کے بعد میرے والد واقعی اکیلے ہو گئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ ان کی وفات کے سال، مہینے، دن، منٹ بلکہ سیکنڈ تک گنتے تھے۔ یہ اعداد نہیں تھے، یہ ان کے دل کے زخم تھے۔
انہوں نے کبھی باقاعدہ دوائی نہیں کھائی تھی، مگر پھر اچانک کینسر جیسی موذی بیماری نے انہیں آ لیا۔ یہ سوال آج بھی بے جواب ہے کہ اتنی سادہ، محنتی اور بے ضرر زندگی گزارنے والا شخص اس اذیت کا مستحق کیوں ٹھہرا؟
آخری دنوں میں انہوں نے شدید تکلیف برداشت کی۔ وہ بیماری سے نہیں ہارے، وہ محتاجی سے ٹوٹ گئے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو اولاد کو عمر بھر کے لیے مجرم بنا دیتے ہیں۔
میرے والد نے ہمیں جو وراثت دی وہ جائیداد نہیں بلکہ کردار ہے۔ سچائی، محنت، برداشت، اور اللہ پر یقین۔ یہ وہ اثاثے ہیں جو قبر تک ساتھ جاتے ہیں۔
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو مجھے معلوم نہیں کہ میں نے حق ادا کیا یا نہیں۔ مگر یہ میری ایک عاجزانہ کوشش ہے کہ میں اپنے والد کے نام کا قرض کچھ حد تک اتار سکوں۔
آخر میں میری تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ میرے مرحوم والد، حاجی محمد سعید صاحب، کے ایصالِ ثواب کے لیے جو بھی ممکن ہو، ایک دعا، ایک کلمہ، ایک سور فاتحہ ضرور پڑھ کر بخش دیں۔
اللہ تعالی میرے والد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے،اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

