دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد آنکھیں کیوں بند ہوتی ہیں؟

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) دوپہر کو کھانے کے بعد اکثر افراد کے اندر سونے کی خواہش بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، پلکیں بھاری ہو جاتی ہیں، دماغ میں دھند چھا جاتی ہے اور کام کرنے کا عزم گھٹ جاتا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق طبی ماہرین نے اس کی پیچھے چھپی چند وجوہات بتائی ہیں جن کے باعث دوپہر کے کھانے کے بعد توانائی کی سطح گھٹ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوپہر کو کھانے کے بعد سستی طاری ہونا یا کام کرنے کی خواہش ختم ہونا اکثر جسمانی افعال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خون کا بہا تبدیل ہوتا ہے اور میٹابولک سسٹم متحرک ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں کھانے سے، خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس یا چکنائی پر مبنی غذا کے استعمال سے جسم میں ہاضمے سے متعلق نظام متحرک ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جسم خون کو غذائی نالی کی جانب منتقل کرتا ہے تاکہ کھانا ہضم کیا جاسکے اور غذائی اجزا کو جذب کیا جاسکے۔
کھانے کے بعد دل کے افعال تو مستحکم رہتے ہیں مگر معدے کی جانب خون منتقل ہونے سے دماغ کی جانب خون کا بہا کچھ گھٹ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خون کی جانب آکسیجن اور گلوکوز کی ترسیل میں معمولی کمی اور کھانے کے بعد متحرک ہونے والے ہارمونز کے باعث سستی یا نیند کا احساس ہوتا ہے، سوچنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور دماغی دھند کا احساس ہوتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا سے بلڈ گلوکوز کی سطح میں فوری اضافہ ہوتا ہے اور انسولین کا ٹھوس ردعمل سامنے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب انسولین کی جانب سے گلوکوز کی سطح کو نیچے لایا جاتا ہے تو سستی کا سامنا ہوتا ہے اور دماغی دھند بڑھ جاتی ہے۔



