مودی پر سرمایہ کاری کرنے والے بھارتی ارب پتی گوتم ایڈوانی پر امریکا میں فرد جرم عائد
گوتم ایڈوانی پر امریکہ میں ایک مبینہ اسکیم کے تحت 250 ملین ڈالر سے زیادہ کی رشوت دینے اور اسکیم کو امریکی سرمایہ کاروں سے چھپانے پر فرد جرم عائد کی گئی ہے

بھارت (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی پر سرمایہ کاری کرنے والے بھارتی ارب پتی گوتم ایڈوانی پر امریکا میں فرد جرم کیوں عائد کی گئی؟ اس حوالے سے تفصیل سامنے آگئی۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق نیو یارک کی ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل لزا ملر نے بتایا کہ فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے امریکی سرمایہ کاروں کی قیمت پر بدعنوانی اور دھوکہ دہی کیذریعے ریاست کے توانائی کی فراہمی کے انتہائی بڑے کانٹریکٹ اور فنانس حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کمپنی نے، جس کا نام استغاثہ نے نہیں بتایا، اس عرصے کے دوران جھوٹے اور گمراہ کن بیانات کی بنیاد پر 3 بلین ڈالر سے زیادہ کے قرضے اور بانڈز اکٹھے کیے ہیں۔اڈانی گروپ نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق حکام نے اڈانی کے علاوہ اڈانی گرین انرجی کے دو دیگر ایگزیکٹوز، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور ونیت جین پر بھی فرد جرم عائد کی ہے۔ امریکی ریاست نیویارک کے شہر بروکلین میں امریکی اٹارنی کے دفتر نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اڈانی نے قابل تجدید توانائی کی بھارتی کمپنی کے دو دیگر ایگزیکٹوز کے ساتھ 2020 اور 2024 کے درمیان شمسی توانائی کی فراہمی کے معاہدوں کو حاصل کرنے کے لیے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو 250 ملین ڈالر سے زیادہ کی رشوت دینے پر اتفاق کیا۔ جس سے 2 ارب ڈالر کا منافع متوقع تھا۔



