انٹرنیشنل

پہلگام میں سیاحوں پر حملہ، درجنوں افراد ہلاک، متعدد زخمی

یہ حملہ پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام پر ہوا، جو مرکزی شہر سرینگر سے تقریبا 90 کلومیٹر (55میل) کے فاصلے پر ہے' اس حملہ میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقہ پہلگام کے مقام پر سیاحوں پر حملہ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہیں جن کو طبی امداد کیلئے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ یہ حملہ حالیہ برسوں میں شہریوں پر ہونے والے کسی بھی حملے سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد کا ابھی تعین کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ ہمارے مہمانوں پر یہ حملہ ایک گھناؤنا فعل ہے۔ اس حملے کے مرتکب افراد حیوان ہیں اور وہ حقارت کے مستحق ہیں۔ خطے کے گورنر منوج سنہا، جو نئی دہلی کے نمائندے ہیں، نے بھی ”سیاحوں پر اس بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اس مکروہ حملے کے ذمہ داروں کو سزا سے نہیں بچایا جا سکے گا۔ ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اس مسلم اکثریتی خطے میں سن 1989 سے کشمیری عسکریت پسند ایک مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ عسکریت پسند یا تو آزادی مانگتے ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔

یہ حملہ پہلگام کے مشہور سیاحتی مقام پر ہوا، جو مرکزی شہر سرینگر سے تقریبا 90 کلومیٹر (55میل) کے فاصلے پر ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے رویندر رینا نے کہاکہ ان بزدل دہشت گردوں نے نہتے معصوم سیاحوں کو نشانہ بنایا، جو کشمیر کی سیر کے لیے گئے تھے۔ کچھ زخمی سیاحوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2024ء میں تقریبا 35 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا رخ کیا، جن میں اکثریت ملکی سیاحوں کی تھی۔ سن 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور نئی دہلی کا براہ راست کنٹرول نافذ کرنے کے بعد سے لڑائی میں کمی آئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button