پاکستان

بائیومیٹرک کے بغیر گاڑیوں کی ٹرانسفر کے سکینڈل میں اہم و حیران کن پیش رفت

سکینڈل کی تحقیقات کے لئے ڈائریکٹر ایکسائز آڈٹ اینڈ انفورسمنٹ رانا قمر الحسن اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسائز ہیڈکوارٹر عدیل امجد کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے

لاہور(فیض احمد) بائیومیٹرک کے بغیر گاڑیوں کی ٹرانسفر کے سکینڈل میں اہم پیش رفت، ایکسائز حکام نے پی آئی ٹی کے ملازم رانا حارث کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو مراسلہ بجھوا دیا ۔

تفصیلات کے مطابق بائیو میٹرک کے بغیر گاڑیوں کی ٹرانسفر کے بڑے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے ایک جے آئی ٹی بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ڈائریکٹر ایکسائز، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب، ڈائریکٹر پی آئی ٹی بی اور محکمہ پولیس سے ڈی آئی جی کو شامل کیا جائیگا تاکہ اعلی سطح پر انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ڈی ایکسائز پنجاب محمد علی نے1100 سے زائد گاڑیوں کی بائیومیٹرک کے بغیر ٹرانسفر کیس میں ملوث پی آئی ٹی بی کے ملازم رانا حارث کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کیلئے مراسلہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ارسال کر دیا ہے اور اس کے متعلق تمام کوائف حاصل کر لئے گئے ہیں جس میں پاسپورٹ نمبر،شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی حاصل کر لی ہیںجبکہ اس بڑے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے ڈائریکٹر ایکسائز آڈٹ اینڈ انفورسمنٹ رانا قمر الحسن اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسائز ہیڈکوارٹر عدیل امجد کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے، علاوہ ازیں ایک جے آئی ٹی بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں محکمہ پولیس، اینٹی کرپشن پنجاب ،پی آئی ٹی بی اور محکمہ ایکسائز کے افسر کو شامل کیا جائے گا ۔ذرائع کے مطابق ایکسائز حکام نے موٹر برانچ لاہور میں تعینات گریڈ 16 کے بعض ملازمین سے بھی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے طلب کیا جائے گا کیونکہ ابتدائی انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹر برانچ کے گریڈ 16 کے بعض ملازمین ایجنٹوں سے مبینہ طور پر 25 سے 30 ہزار روپے رشوت لے کر اے ڈی آر سسٹم کے ذریعے گاڑیوں کی ٹرانسفر کراتے اور گاڑیوں کی فائلیں ایکسائز کمپیوٹر پروگرامر اور پی آئی ٹی بی کے ملازمین کو دیتے تھے ۔اور اس طرح مختلف اوقات میں 1100 سے زائد گاڑیاں بائیومیٹرک کے بغیر ہی ٹرانسفر کر دی گئیں جس کی اعلی سطح پر تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button