پاکستان

شہباز شریف کا چینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، اہم امور پر تبادلہ خیال

دونوں رہنماؤں کا پاکستان اور چین کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق' چینی وزیر اعظم کوحالیہ انتخاب پر مبارکباد بھی دی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چینی وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ علاقائی امن، خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ کے درمیا ن ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ،یہ گفتگو روایتی گرمجوشی اور ہم آہنگی پرمبنی تھی جس میں پاک چین سدا بہار سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو اجاگرکیا گیا۔شہباز شریف نے چینی وزیر اعظم کواس عہدے کیلئے ان کے حالیہ انتخاب پر مبارکباد دی جو چینی قوم کے گہرے اعتماد اور عوامی خدمت میں ان کی بہت سی کامیابیوں سے پیدا ہونے والے ان پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

سدا بہارشراکت دار اور قریبی دوستوں کی حیثیت سیپاکستان نے چین کی پرامن ترقی کو بین الاقوامی امن اور استحکام کے مثبت عنصر کے طور پر سراہا اور اس بات پر یقین ظاہر کیا کہ چین ترقی اور بحالی کی جانب اپنے سفر میں اہم سنگ میل حاصل کرتا رہے گا۔وزیر اعظم نے چین کے بنیادی مسائل بشمول ون چائنا پالیسی، تائیوان، تبت، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین پر پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کے اصولی موقف اور بنیادی مسائل پر پاکستان کی حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ چینی وزیر اعظم نے چین کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور پاکستان کی قومی ترقی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے چین کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سدا بہار دوست کی حیثیت سے چین پاکستان کے ساتھ ہر وقت کھڑا رہے گا۔نومبر 2022 میں وزیر اعظم کے دورہ چین اور صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کے ساتھ وسیع گفتگو کو یاد کرتے ہوئے، دونوں رہنماں نے سی پیک سمیت اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تمام شعبوں میں اپنے تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ علاقائی امن، خوشحالی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ممالک کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے مشترکہ مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button