پاکستان

ڈائریکٹر ایکسائز محمد آصف ان ایکشن، ٹیکس نادہندہ کمرشل بسوں کیخلاف کارروائی

کمرشل بسوں کے مالکان نے تین سے چار سالوں کا ٹوکن ٹیکس جمع نہیں کرایا اور تقریبا 260 سے زائد کمرشل بسوں کے مالکان نے اپنی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس جمع نہیں کرایا

لاہور(فیض احمد) محکمہ ایکسائز موٹر برانچ کے ڈائریکٹر محمد آصف کا ایکشن، صوبائی روٹس پر چلنے والی مختلف کمپنیوں کی سینکڑوں بڑی کمرشل بسوں کے خلاف کارروائی اور ٹوکن ٹیکس کی رقم وصول کی گئی۔

کھوج نیوز ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز موٹر برانچ کے ڈائریکٹر محمد آصف نے بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مختلف کمپنیوں کی سینکڑوں بڑی کمرشل بسیں جو کہ محکمہ ایکسائز پنجاب کی کروڑوں روپے کے ٹوکن ٹیکس کی نادہندہ ہیں ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بسوں کو لاک کر دیا اور ان سے ٹوکن ٹیکس کی رقم وصول کی گئی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹر ایکسائز موٹر برانچ محمد آصف کی زیر نگرانی بادامی باغ بس اڈے،سگیاں پل، ٹھوکر نیاز بیگ کے باہر ناکہ بندی کی گئی اور بس اڈے سے باہر نکلنے والی ہر کمرشل بس کے ٹوکن چیک کئے گئے جس کے باعث پتہ چلا کہ متعدد کمرشل بسوں کے مالکان نے تین سے چار سالوں کا ٹوکن ٹیکس جمع نہیں کرایا اور تقریبا 260 سے زائد کمرشل بسوں کے مالکان نے اپنی گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس جمع نہیں کرایا اور اس کی رقم کروڑوں روپے میں ہے ۔

ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز پنجاب کی جانب سے بادامی باغ ،بابو صابو،ٹھوکر نیاز بیگ کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے ٹوکن ٹیکس کی عدم ادائیگی پر مختلف کمپنیوں کی بڑی لگژری کمرشل بسوں کے خلاف کریک ڈان کا سلسلہ جاری ہے جس پر ٹرانسپورٹ یونین کے رہنماؤں نے ڈائریکٹر ایکسائز موٹر برانچ محمد آصف کے ساتھ ملاقات بھی اور ان سے مہلت مانگی کہ وہ اپنی بسوں کا ٹوکن ٹیکس جلد از جلد جمع کرا دیں گئے ۔ اس یقین دہانی پر ڈائریکٹر ایکسائز موٹر برانچ نے کہا آپ پہلی فرصت میں ٹوکن ٹیکس جمع کرائیں بصورت دوبارہ کریک ڈان کر کے کمرشل بسوں کو بند کرکے ان کو ضبط کر لیا جائے گا اور ٹوکن ٹیکس کی وصولی کے بعد گاڑیاں مالکان کے حوالے کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ ایکسائز حکام کی جانب سے ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ناکہ بندی کر کے کارروائیاں کی جا رہی ہیں جن کو ڈی جی ایکسائز پنجاب محمد علی خود مانیٹر کر رہے ہیں اور ناکہ بندیوں کے اچانک دورے بھی کئے جا رہے ہیں جس میں عملے کی حاضری بھی چیک کی جاتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button