پاکستان اور انڈونیشیا میں پام آئل تجارت کا بڑا معاہدہ

اسلام آباد(کھوج نیوز) پاکستان اور انڈونیشیا میں پام آئل تجارت کا بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تکمیل اور دسمبر 2025 میں صدر پرابوو سبیانتو کے دور پاکستان کے تسلسل کا حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جمہوریہ انڈونیشیا کے سفارت خانے اور کراچی میں انڈونیشیا کے قونصلیٹ جنرل نے انڈونیشین پام آئل ایسوسی ایشن (GAPKI) کے تعاون سے منعقد کی، جس میں انڈونیشیا کی نائب وزیرِ تجارت عالی جناب دیاح رورو اِستی وِدیا پتری، وفاقی وزیرِ تجارت جناب جام کمال خان، اور پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو سمیت دونوں ممالک کے اعلی حکام نے شرکت کی۔
انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت دیاح رورو استی ودیا پتری نے کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے لیے اہم ہے، پاکستان کی منڈی ، صنعت اور صارفین ہمارے لیے اہم ہیں۔ سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات ایک زیادہ اسٹریٹجک اور مستقبل پر مبنی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پام آئل اگرچہ تجارت کا مرکزی ستون ہے، تاہم انڈونیشیا وسیع تر تعاون اور متوازن تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے۔ یہ تقریب شراکت داریوں کو تسلیم کرنے، اعتماد کو مضبوط بنانے اور مستقبل پر مبنی اقتصادی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔
GAPKI کے چیئرمین ایڈی مارٹونو نے کہا کہ ان کی تنظیم حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ پاکستان، جو دنیا کے بڑے پام آئل درآمد کنندگان میں شامل ہے، کو مستقل اور ذمہ دار سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشین پیداواری اداروں اور پاکستانی خریداروں کے درمیان براہِ راست معاہدوں کو فروغ دیا جائے گا اور ریفائننگ و پروسیسنگ کے شعبوں میں تکنیکی تعاون بڑھایا جائے گا۔
تقریب کے دوران تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مشترکہ تجارتی کمیشن کے قیام کا معاہدہ بھی شامل ہے، جب کہ GAPKI اور پاکستان کی خوردنی تیل و ویجیٹیبل مینوفیکچررز کی تنظیموں کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک نے ریفائننگ، حلال سرٹیفکیشن، پائیداری اور بندرگاہی لاجسٹکس میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی اتفاق کیا، اور کراچی کو جنوبی ایشیا میں اقتصادی توسیع کے لیے قدرتی شراکت دار قرار دیا۔



