شوبز

سعودی عرب کی تاریخ ميں پہلی مرتبہ نیم برہنہ فیشن شو کا انعقاد،مغربی دنیا بھی حیرت زدہ رہ گئی

سعودی عرب ميں پہلی مرتبہ ايسا فيشن شو منعقد ہوا جس ميں ماڈلز نے سوئمنگ سوٹ پہن رکھے تھے

ریاض(ویب ڈیسک)سعودی عرب کی تاریخ ميں پہلی مرتبہ نیم برہنہ فیشن شو کا انعقاد،مغربی دنیا بھی حیرت زدہ رہ گئی۔رپورٹس کے مطابق سعودی عرب ميں پہلی مرتبہ ايسا فيشن شو منعقد ہوا جس ميں ماڈلز نے سوئمنگ سوٹ پہن رکھے تھے۔ ايک ايسے ملک ميں جہاں ايک دہائی قبل عورتوں کو پورا جسم ڈھکنا پڑتا تھا اور برقعہ يا عبايا پہننا پڑتا تھا، يہ ايک بڑی تبديلی ہے۔

‘ريڈ سی فيشن ويک‘ نامی ايونٹ کے سلسلے ميں سعودی عرب کے مغربی ساحلی کنارے پر يہ فيشن شو جمعہ سترہ مئی کو ‘سينٹ ريگيس ريڈ سی ريزورٹ‘ پر منعقد ہوا۔ سوئمنگ پول پر ہونے والے فيشن شو ميں مراکشی ڈيزائنر ياسمينا قنزال کے کام کی نمائش کی گئی۔ ان کی تازہ ترين کليکشن کے مختلف رنگوں ميں ون پيس سوئمنگ کاسٹيومز پہن پر ماڈلز نے واک کی۔

ڈيزائنر ياسمينا قنزال کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اب بھی ايک قدامت پسند ملک ہے۔ اسی ليے انہوں نے عرب معاشرے سے مطابقت رکھتے ہوئے ايسے سوئمنگ سوٹس ڈيزائن کيے، جو دلکش بھی لگيں اور زيادہ عرياں بھی نہ ہوں۔ انہوں نے کہا، ”جب ہم يہاں آئے، تو ہم اس بات سے واقف تھے کہ سوئم سوٹ کے فيشن شو کا انعقاد سعودی عرب ميں ايک تاريخی بات ہے۔ يہ پہلی مرتبہ ہے کہ ايسا کوئی شو منعقد ہو رہا ہے۔ اسی ليے يہ ہمارے ليے فخر کی بات ہے۔‘‘

سعودی فيشن انڈسٹری کی سن 2022 ميں ماليت ساڑھے بارہ بلين ڈالر تھی، جو کہ مجموعی قومی پيداوار کے لگ بھگ ڈيڑہ فيصد کے برابر بنتی ہے۔ سعودی فيشن کميشن کی جانب سے پچھلے سال جاری کردہ ايک رپورٹ کے مطابق اس صنعت سے دو لاکھ تيس ہزار افراد کی ملازمت وابستہ ہے۔

جس ريزورٹ پر يہ فيشن شو منعقد ہوا، وہ دراصل ‘ريڈ سی گلوبل‘ نامی ايک بہت بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب ميں وسيع تر اقتصادی و سماجی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی شہزادے نے سن 2017 ميں ولی عہد بننے کے بعد سے  کئی ايسے ڈرامائی اقدامات کيے ہيں، جن کا اس قدامت پسند عرب معاشرے ميں چند سال قبل تک تصور بھی ممکن نہ تھا۔

سعودی ولی عہد سعودی معيشت کا خام تيل کےکاروبارپرمکمل دارومدارکم کرنے کےخواہاں ہيں۔ محمد بن سلمان ملک کی ساکھ کو بہتربنانے کےليے بھی کوشاں ہيں اور اس سلسلے ميں بالخصوص خواتين کے حوالے سے کئی نرمياں کی گئيں۔ سينما گھروں کا قيام، ايسے ميوزک فيسٹولز کا انعقاد جن ميں مرد و خواتين ايک ساتھ شرکت کرسکتے ہوں وغيرہ اسی وژن کی حقيقی مثاليں ہيں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظيميں اب بھی کئی امور ميں مسائل کی نشاندہی کرتی ہيں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button