بلڈ پریشر سے بچنے کیلئے کتنی ورزش کرنی چاہیے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

کیلیفورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک) خون کے دبائو یا بلڈ پریشر سے بچنے کے لئے انسان کو کتنی ورزش کرنی چاہیے؟ اس حوالے سے نئی تحقیق سامنے آنے کے بعد بلڈ پریشر میں لاحق افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں ہونے ہونیوالی تحقیق میں بتایا گیا کہ نوجوانی اور 20 سے 25 سال کی عمر میں بیشتر افراد جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ بات تو متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوچکی ہے کہ ورزش کرنے سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے مگر اس تحقیق کے نتائج میں عندیہ دیا گیا کہ جوانی میں جسمانی سرگرمیوں کی سطح مستحکم رکھنا بلڈ پریشر کو خود سے دور رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔
تحقیق میں شامل افراد کی صحت کا جائزہ 3 دہائیوں تک لیا گیا اور ان کی جسمانی صحت کا تجزیہ کیا گیا جبکہ ورزش اور تمباکو نوشی جیسی عادات کی تفصیلات سوالناموں کے ذریعے حال کی گئیں۔ ہر بار طبی تجزیے کے دوران بلڈ پریشر کو بھی 3 بار جانچا جاتا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں جسمانی سرگرمیوں کی سطح میں بتدریج کمی آئی جبکہ بلڈ پریشر کی سطح بڑھنے لگی۔ محققین کے مطابق جوانی میں ورزش کو عادت بنانا درماینی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے بچنے کے لیے بہت اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوانی میں ہر ہفتے 5 گھنٹے تک معتدل شدت کی ورزش کرنے والے افراد میں درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔ اگر یہ افراد جسمانی سرگرمیوں کی عادت کو 60 سال کی عمر تک برقرار رھیں تو یہ خطرہ مزید کم ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج امریکن جرنل آف پرینیٹیو میڈیسن میں شائع ہوئے۔ اس حوالے سے امریکا کے معروف طبی ادارے مایو کلینک کی جانب سے جاری سفارشات کے مطابق ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ کی معتدل ایروبک سرگرمیوں یا 75 منٹ کی سخت ورزشیں یا دونوں کے امتزاج پر مبنی جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانا چاہیے۔



